نئی دہلی، 29 ستمبر (یو این آئی) زراعت و کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر شیو راج سنگھ چوہان نے منگل کے روز اعلان کیا کہ مرکز میں ہونے والے ہفتہ وار جائزے کی طرز پر اب ہر مہینے ریاستوں کے ساتھ باقاعدہ طریقے سے آن لائن میٹنگیں کی جائیں گی، جس میں زراعت میں ہونے والی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔
مسٹر چوہان یہاں جاری 'قومی زرعی کانفرنس - ربیع مہم 2026' کے دوسرے دن اسٹیک ہولڈرز سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر وزیرِ زراعت، سکریٹری زراعت، ریاست کی زرعی یونیورسٹیوں، آئی سی اے آر کے اداروں، کے وی کے، آتما، ایف پی او، ترقی پسند کسانوں، پروسیسرز، ایکسپورٹرز اور مرکزی حکومت کے نوڈل حکام کو جوڑ کر ایک بااختیار ریاستی زرعی ٹیم بنائی جائے گی۔ وہیں، ضلعی سطح پر کلکٹر، ڈی ڈی اے، آتما، کے وی کے، آئی سی اے آر کے سائنس دانوں، بینکرز اور کسانوں کی ماہانہ میٹنگیں ہوں گی۔
زرعی مہمات کی پیشگی تیاری کے لیے انٹرفیس میٹنگوں کا سالانہ کیلنڈر طے کرتے ہوئے انہوں نے ہدایت دی کہ ہر سال خریف کے لیے 10 مئی کو ضلعی سطح اور 17 مئی کو ریاستی سطح کی میٹنگ ہوگی۔ اسی طرح ربیع مہم کے لیے 10 ستمبر کو ضلعی سطح اور 17 ستمبر کو ریاستی سطح کی میٹنگیں لازمی طور پر منعقد کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی، ملک بھر میں ایک ہی دن ایک روزہ خصوصی میٹنگ بھی ہوگی، جس میں پورے ملک میں ایک ساتھ وزرائے زراعت، حکام اور زرعی سائنس دان کسانوں کے مفاد میں جڑیں گے۔
مرکزی وزیر چوہان نے مٹی کی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کو لے کر اس سال 22 اکتوبر سے 30 نومبر تک پورے ملک میں جامع 'کھیت بچاؤ مہم' چلانے کی اپیل کی۔ اس مہم میں سوائل ہیلتھ کارڈ کی بنیاد پر متوازن کھاد کے استعمال پر زور دیا جائے گا تاکہ زمین کی فرٹیلٹی اور دوست کیڑے محفوظ رہیں۔ اس کے ساتھ ہی، مشرقی ہندوستان کی ریاستوں- جھارکھنڈ، بہار، اوڈیشہ اور مغربی بنگال میں دھان کی کٹائی کے بعد خالی رہنے والے کھیتوں میں دالوں کی کاشت کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے گا۔
اس سال کی ربیع کی تیاریوں کے تحت انہوں نے مٹی میں نمی اور پانی کی دستیابی کی بنیاد پر ہی فصلوں اور اعلیٰ معیار کے بیجوں کی بوائی کا مشورہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے فصلوں کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے کے ٹھوس انتظامات کرنے، تمام اہل کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کی سہولت دینے اور فصل بیمہ یوجنا کے تحت شفاف ڈراپ کٹنگ تجربات کرانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاست کے وزراء خود تمام محکماتی اسکیموں کے عمل درآمد کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
اس موقع پر مرکزی وزیر مسٹر چوہان نے پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم-آر کے وی وائی) کے تحت 10 ریاستوں کے وزرائے زراعت کو اسٹیج پر ہی 1,200 کروڑ روپے سے زائد کے مالیاتی منظوری کے خطوط فراہم کیے۔ اس اسکیم کے تحت مغربی بنگال کو 290 کروڑ روپے، ہریانہ کو 198 کروڑ روپے، چھتیس گڑھ کو 181 کروڑ روپے نیز دیگر ریاستوں کو مالیاتی منظوری کے خطوط تقسیم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت صرف پالیسیاں بنانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ریاستوں کو وقت پر وسائل بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ اسکیموں کا عمل درآمد زمینی سطح پر فوری طور پر شروع ہو سکے۔
ملک کی زرعی کامیابیوں کی تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال 2015 کے بعد ملک کی زرعی شرحِ نمو 3 فیصد سے بڑھ کر 4.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سالانہ غذائی اجناس کی پیداوار میں اوسط اضافہ پہلے کے 40 لاکھ ٹن کے مقابلے اب دوگنے سے زیادہ ہو کر 84 لاکھ ٹن فی سال تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ، سال 24-2023 سے 26-2025 کے دو سالوں میں ہی ربی کی غذائی اجناس کی پیداوار میں 205 لاکھ ٹن کا غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس تاریخی اضافے کا سہرا ریاستوں کے محکمہ زراعت، سائنس دانوں اور کسانوں کی مشترکہ محنت کے سر باندھا۔
ملک میں بیج اور کھاد کی دستیابی کو کافی بتاتے ہوئے مسٹر چوہان نے ریاستوں کو نقلی کھاد، نقلی بیج اور غیر معیاری کیڑے مار ادویات کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے نیز زبردستی ٹیگنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ہدایت دی۔ کھیتی کو پائیدار اور منافع بخش بنانے کے لیے انہوں نے قدرتی کھیتی ، انٹیگریٹڈ فارمنگ اور فصلوں کی تنوع کو مشن موڈ میں اپنانے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر چوہان نے کہا کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح اور منافع بخش قیمت دلانے کے لیے حکومت کثیر جہتی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔ اس میں کٹائی کے بعد فصل کے انتظام، اسٹوریج اور فروخت کے مضبوط نظام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارہر، اڑد اور مسور کی ایم ایس پی پر 100 فیصد یقینی سرکاری خریداری کی جائے گی اور 48 گھنٹے میں ادائیگی کا نظام ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ویژن کے مطابق بین الاقوامی آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کی نئی مارکیٹ پالیسی کا فائدہ اٹھا کرہندوستانی زرعی مصنوعات، پھلوں، سبزیوں اور اناج کو عالمی برآمدات سے جوڑا جائے گا، جس سے کسانوں کو پیداوار کی بہترین قیمت مل سکے اور ہندوستان دنیا کا اہم 'فوڈ باسٹک' بن سکے۔
کانفرنس میں زراعت و کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزرائے مملکت رام ناتھ ٹھاکر اور بھاگیرتھ چودھری، مرکزی زرعی سکریٹری آتیش چندرا نیز انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ سمیت مرکز اور ریاستوں کے سینئر حکام، سائنس دان اور مختلف زرعی اداروں کے نمائندے موجود رہے۔