لکھنؤ، 28 ستمبر (یو این آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی کی جانب سے ملک میں بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کرانے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ انتخابات میں تمام نشستیں جیتنے کے بعد بھی ان کی پارٹی بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بیلٹ پیپر سے انتخابات ہو سکتے ہیں تو ہندوستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔
پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مسٹر یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں تبدیلی یا چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے جیسے اقدامات اسی وقت ممکن ہوں گے جب بی جے پی کو اقتدار سے ہٹایا جائے گا۔ ان کے مطابق، بی جے پی کے اقتدار میں رہتے ہوئے نظام میں تبدیلی تقریباً ناممکن ہے۔
انہوں نے اتر پردیش میں سائبر جرائم بڑھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست سائبر دھوکہ دہی کا مرکز بنتی جا رہی ہے، لیکن حکومت اسے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے ای وی ایم میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کو بھی سائبر دھوکہ دہی جیسا قرار دیا۔
ایس پی صدر نے بی جے پی پر کسانوں کی زمین کے حصول کے نام پر بڑے گھپلے کا الزام لگاتے ہوئے اسے ''سب سے بڑی زمین مافیا پارٹی'' قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی رہنماؤں پر سرکاری زمین اور تالابوں پر قبضے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے مافیا سے ضبط کی گئی 84 ہزار ہیکٹیئر زمین کے دعوے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ وہ زمین اب کہاں ہے۔
مسٹر یادو نے حکومت پر مدارس کے ساتھ امتیاز برتنے اور لوگوں کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو آئین پر مکمل اعتماد ہے، لیکن حکومت ان کی مساجد گرانے پر آمادہ ہے۔
انہوں نے اپنے رہائش گاہ کو بھی غیر قانونی قرار دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی رہنماؤں کی کئی عمارتیں مبینہ طور پر غیر قانونی ہیں اور سرکاری زمین اور تالابوں پر تجاوزات کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔
انہوں نے ووٹر فہرست سے نام ہٹائے جانے اور انتخابات میں بے ضابطگیوں کا بھی الزام لگایا۔ یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا کام لوگوں کو تقسیم کرنا رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے روزگار اور تعلیم دونوں شعبوں میں ادھورے کام کیے ہیں۔
ایس پی صدر نے شکشا متر کی حالت بہتر بنانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کی حکومت بننے پر شکشا متر کے مفاد میں کام کیا جائے گا اور انہیں استاد کے طور پر احترام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے لیے پرانی پنشن کا نظام بھی بحال کیا جائے گا۔
مسٹر یادو نے کہا کہ انجینئرنگ میں پہلے سے سمسٹر کا نظام تھا اور اب اسے ڈگری کالجوں میں بھی نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی کی حکومت بننے پر اس نظام میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔
انہوں نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تعلیم، روزگار اور ملازمین سے متعلق مسائل پر ان کی پارٹی کام کرے گی۔