Jadid Khabar

چندہ چوری: ’بڑی مچھلیوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟‘ پی ایم مودی کی خاموشی پر کانگریس نے اٹھائے سوال

Thumb

کانگریس نے رام مندر میں عطیات کی مبینہ چوری کو لے کر بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک بار پھر ہدف تنقید بنایا ہے۔ راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس حوالے سے ایک طویل پوسٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’چندہ چوری آستھا (عقیدت) سے دھوکہ۔ دیکھو او بی جے پی والو، تم یہ کام نہ کرو، رام کا نام بدنام نہ کرو، بدنام نہ کرو!‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایودھیا کے بھگوان شری رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے معاملے میں تحقیقات شروع ہوئے 3 ماہ مکمل ہونے میں صرف 3 روز باقی ہیں، لیکن شرمناک بات یہ ہے کہ اب تک ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں ہوئی ہے۔ اگر 25 ستمبر تک چارج شیٹ داخل نہیں ہوئی تو ملک کی سب سے شرمناک چڑھاوے کی چوری کے چھوٹے کرداروں کو ضمانت ملنے کا راستہ صاف ہو جائے گا۔‘‘

جے رام رمیش نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’ہم یہ واضح کر دیں ملک کے عوام کو ایسی ایس آئی ٹی اور ایسی کسی بھی سرکاری چارج شیٹ پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے، جس میں بڑی مچھلیوں کو بچانے کا خدشہ برقرار ہے۔ جو لوگ کہتے تھے کہ کچھ بھی رپورٹ کے لائق نہیں ہے ان کی اپنی تحقیقات اب خود تسلیم کر رہی ہیں کہ چڑھاوے کی چوری 70 نہیں بلکہ 170 بار تو سی سی ٹی وی میں ہی سامنے آ چکی ہیں جسے وہ چاہ کر بھی جھٹلا نہیں پا رہے ہیں۔‘‘
راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ چارج شیٹ داخل ہونے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ معاملہ بڑے چوروں اور ان کے سرپرستوں سے توجہ ہٹانے کا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ ایودھیا کے بھگوان شری رام مندر میں منصوبہ بند طریقے سے کی گئی چڑھاوا چوری کے سرغنوں کو کون اور کیوں بچا رہا ہے؟ اس سنگین معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی اور چڑھاوا چوری کے ملزمان کی مدد پر بھی مسلسل سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش نے یہ بھی لکھا کہ ’’عوام کے ذہن میں سیدھے اور واضح سوالات ہیں، معاملے میں بڑی مچھلیوں پر اب تک کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ ان سے سخت پوچھ تاچھ کب ہوگی؟ اصل قصورواروں کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات سے کون اور کیوں بچنا چاہتا ہے؟ ٹرسٹ کو اب تک تحلیل کیوں نہیں کیا گیا؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ہمارا ماننا ہے کہ ایس آئی ٹی کے نام پر بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتوں کے ذریعہ بی جے پی-آر ایس ایس سے وابستہ چڑھاوا چوری کے ملزمان کو بچانے کی کارروائی چل رہی ہے۔ سوال اب صرف ملزمان کا نہیں بلکہ ان لوگوں کی جوابدہی کا بھی ہے جن کی نگرانی میں یہ سب ہوا۔‘‘