نئی دہلی، 21 ستمبر (یواین آئی) تجارت و صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے پیر کو اعلان کیا کہ نیوزی لینڈ کے ساتھ ہندوستان کا آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) 20 اکتوبر سے نافذ العمل ہو جائے گا۔
مسٹر گوئل نے وزارت تجارت و صنعت میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ''بھارت اور نیوزی لینڈ دونوں کے مفاد میں ہے۔'' اس معاہدے پر رواں سال 27 اپریل کو دستخط کیے گئے تھے اور نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے اسے منظوری دے دی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کو نافذ کرنے سے متعلق تمام کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
انہوں نے بھارت کی صنعت اور کاروباری برادری سے اپیل کی کہ وہ ایسے معاہدوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
اس معاہدے کے تحت بھارت کی 100 فیصد برآمدات کو نیوزی لینڈ میں ڈیوٹی فری داخلے کی سہولت حاصل ہوگی، جبکہ بھارت نے ڈیری مصنوعات اور گھریلو کسانوں کے مفاد کے پیش نظر مکئی، پیاز، چنا، دالوں، چینی اور شہد سمیت کئی حساس زرعی مصنوعات پر نیوزی لینڈ کو کوئی رعایت نہیں دی ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ اس معاہدے کو دونوں ملکوں میں وسیع حمایت حاصل ہے۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن، دونوں جانب کے 93 ارکان نے اس معاہدے کی حمایت کی، جبکہ صرف 29 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اب تک کسی بھی متعلقہ فریق نے اس معاہدے کے خلاف کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیا ہے۔
مسٹر گوئل نے کہاکہ ''اس معاہدے سے نیوزی لینڈ کی منڈی میں ان ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں ہماری مشکلات دور ہوں گی، جن کے ساتھ نیوزی لینڈ کا پہلے ہی تجارتی معاہدہ ہے۔'' انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے اس معاہدے کے تحت بھارت میں 20 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے ''ہمیں غیر ملکی سرمایہ اور نئی ٹیکنالوجی حاصل ہوگی۔''
وزیر تجارت نے کہا کہ اس معاہدے سے نیوزی لینڈ کے سرمایہ کاروں کو بھارت میں مینوفیکچرنگ کے لیے حوصلہ ملے گا اور وہ یہاں کم لاگت پر مصنوعات تیار کرکے انہیں تیسرے ممالک کو برآمد کرسکیں گے۔