Jadid Khabar

تمل ناڈو میں دھان اور گنے کے کاشت کاروں کو راحت، ریاستی حکومت نے کیا اضافی رقم کا اعلان

Thumb

 
چنئی: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے پیر کو ریاست کے دھان اور گنے کے کاشت کاروں کے لیے ترغیبی رقم میں اضافے کا اعلان کیا۔ ریاستی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا، زرعی پیداوار کے لیے بہتر قیمت یقینی بنانا اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا بوجھ کم کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں ضابطہ 110 کے تحت بیان دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے علاوہ دھان کے کاشت کاروں کو اضافی رقم فراہم کرے گی۔ اچھی قسم کے دھان کے لیے 289 روپے فی کوئنٹل اور عام قسم کے دھان کے لیے 150 روپے فی کوئنٹل اضافی رقم دی جائے گی۔
حکومت کے اس فیصلے کے بعد اچھی قسم کا دھان سرکاری خرید مراکز پر 2750 روپے فی کوئنٹل کی قیمت پر خریدا جائے گا، جبکہ عام قسم کے دھان کی خرید قیمت بڑھ کر 2600 روپے فی کوئنٹل ہو جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اضافی مالی امداد کا مقصد کسانوں پر بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کو کم کرنا اور انہیں اپنی پیداوار کی مناسب قیمت دلانا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس فیصلے سے ریاست بھر میں دھان کی کاشت کرنے والے بڑی تعداد میں کسانوں کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر وہ کاشت کار جو اپنی پیداوار فروخت کرنے کے لیے سرکاری خرید مراکز پر انحصار کرتے ہیں۔
دھان تمل ناڈو کی اہم زرعی فصلوں میں شامل ہے اور اس کی خرید قیمت کا کسانوں کی آمدنی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے ترغیبی رقم بڑھانے کے فیصلے کو کسانوں کے لیے اہم راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے گنے کے کاشت کاروں کے لیے بھی بڑی ترغیب کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی چینی ملوں کو گنا فروخت کرنے والے کسانوں کو اب زیادہ مالی فائدہ ملے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملوں کو فراہم کیے جانے والے گنے کے لیے 3,290.50 روپے فی ٹن کی رقم مقرر ہے۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو حکومت 709.50 روپے فی ٹن اضافی ترغیب دے گی۔ اس طرح گنے کے کاشت کاروں کو مجموعی طور پر 4,000 روپے فی ٹن ملیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب تمل ناڈو میں گنے کی مجموعی خرید قیمت 4,000 روپے فی ٹن کی سطح تک پہنچی ہے۔ انہوں نے دھان کے لیے ترغیبی رقم میں اضافے کو بھی کسانوں کے مفاد میں اہم قدم قرار دیا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کسان زرعی سامان، مزدوری، آبپاشی اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر فصلوں کی خرید قیمت میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسان برادری کے مفادات کے تحفظ اور زراعت کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی۔