مودی-شاہ گھر پر بیٹھ کر حکومت چلا رہے ہیں اور ہمارے اراکین پارلیمنٹ ایوان میں آواز اٹھا رہے ہیں: کھڑگے
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں آج بھی اپوزیشن نے زبردست احتجاج کیا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے پارلیمنٹ میں آنے اور جواب دینے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ کیا۔ اس کے بعد لوک سبھا پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ پارلیمانی احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’نریندر مودی اور امت شاہ گھر پر بیٹھ کر حکومت چلا رہے ہیں، جبکہ ہمارے اراکین پارلیمنٹ ایوان میں آواز اٹھا رہے ہیں۔‘‘
ملکارجن کھڑگے کے مطابق مودی-شاہ کمروں میں بیٹھ کر سنتے ہیں۔ پھر اپنے لوگوں کو ہدایت دیتے ہیں کہ جیسے ہی اپوزیشن بولنے کے لیے کھڑا ہو، ایوان میں شور مچاؤ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ راجیہ سبھا میں چیئرمین بھی ہمیں آواز نہیں اٹھانے دیتے۔ میں ان پر بھروسہ کر کے بیٹھ جاتا ہوں اور پھر وہ ایوان کو ملتوی کر دیتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مودی-شاہ ایوان میں آئیں، جواب دیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں تو استعفیٰ دیں۔ آج اگر ایوان نہیں چل رہا ہے تو اس کے ذمہ دار نریندر مودی اور امت شاہ ہیں۔‘‘
کانگریس صدر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ امت شاہ ایوان میں آئیں۔ ہم 17 دنوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ امت شاہ ایوان میں آ کر بچوں کے ساتھ ہوئی ناانصافی اور زیادتی پر بیان دیں۔ وزیر اعظم مودی بھی ایوان میں آ کر جواب دینے کے بجائے رات میں انسٹاگرام پر ریل بنا رہے ہیں۔‘‘ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’آخر یہ لوگ ایوان میں آنے سے کیوں ڈر رہے ہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے کچھ غلط کیا ہے۔ مودی حکومت نہ عوام کے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی طلبہ و نوجوانوں کو سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اگر انہیں ایوان میں بیان نہیں دینا ہے تو استعفیٰ دیں۔‘‘
دوسری جانب کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر خط کی کاپی پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میں نے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبہ پر پولیس کی بربریت کے معاملے میں وزیر داخلہ امت شاہ سے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کریں۔ دہلی پولیس اور سی آر پی ایف، جو طلبہ کے خلاف تشدد میں پیش پیش تھیں، ان کی وزارت کے ماتحت ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ہمارا آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ وزراء کی کونسل (جس کے وہ ایک سینئر رکن ہیں) ملک کے عوام کے تئیں اجتماعی طور پر جواب دہ ہے۔ اس لیے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بیان دینا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔ انہیں لوک سبھا میں اس مسئلے پر بولنے کے لیے مجبور کیا جانا چاہیے۔‘‘