پرچہ لیک کے خلاف سخت دفعات پر مشتمل ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش
نئی دہلی، 27 جولائی (یو این آئی) حکومت نے امتحانات میں پرچہ لیک اور منظم امتحانی دھاندلی پر سخت گرفت کے مقصد سے پیر کے روز لوک سبھا میں "لوک پریکشا (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026" پیش کیا۔
سائنس و ٹیکنالوجی اور عملہ کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ بل میں قصورواروں کے لیے 10 سال تک قید، 10 کروڑ روپے تک جرمانہ، جائیداد کی ضبطی، خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں، مقررہ مدت میں تفتیش اور سماعت سمیت کئی سخت نئی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف امتحانات میں پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں نے امتحانی نظام کی شفافیت، غیر جانبداری اور ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان واقعات کی روک تھام اور قصورواروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے قانون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ یہ بل "لوک پریکشا (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024" میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔
ترمیمی بل کے تحت تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس قانون کے تحت جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے اور انہیں نوٹیفائی کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ ان عدالتوں میں مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی اور چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر مقدمات کا فیصلہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہائی کورٹ میں دائر اپیلوں کا بھی تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔
بل کے مطابق مرکزی حکومت کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹاسک فورس (اسپیشل ٹاسک فورس) تشکیل دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ قانون کے تحت درج مقدمات کی تفتیش دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے ایک یا ایک سے زائد خصوصی سرکاری وکلاء (اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز) مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔
بل میں منظم طریقے سے پرچہ لیک کرنے، امتحانات میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرانے یا ایسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے سزا میں اضافہ کرتے ہوئے دو سال سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے سے 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کو بھارتیہ نیائے سنہتہ کی متعلقہ دفعات کے تحت اضافی سزا سنانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
بل کی دفعات کے مطابق اگر کوئی سروس فراہم کرنے والا ادارہ، ایجنسی یا کمپنی اس نوعیت کے جرم میں ملوث پائی جاتی ہے تو اس پر ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحان کے انعقاد پر آنے والی اصل لاگت بھی متعلقہ ادارے سے وصول کی جائے گی اور اسے چار سال تک کسی بھی امتحانی عمل سے متعلق کام انجام دینے سے محروم رکھا جا سکے گا۔
اگر کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر، اعلیٰ انتظامیہ، افسران، ملازمین یا دیگر ذمہ دار افراد جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو انہیں بھی دو سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔
بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی امتحانی اتھارٹی، اس سے وابستہ ادارہ یا کوئی منظم گروہ اس جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف پانچ سے 10 سال تک قید اور کم از کم ایک کروڑ روپے جرمانے جیسی سخت کارروائی کی جا سکے گی۔
ترمیمی بل کے تحت جرم سے حاصل کی گئی جائیداد ضبط کرنے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد عوامی امتحانی نظام میں شفافیت، غیر جانبداری اور اعتماد کو مزید مضبوط بنانا، نوجوانوں کا امتحانی نظام پر بھروسہ بڑھانا اور پرچہ لیک و منظم امتحانی مافیا کے خلاف مؤثر اور مقررہ مدت میں کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔