Jadid Khabar

نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر ’فاسٹ ٹریک کورٹ‘ کی سماعت پہلے دن ہی ملتوی، سی بی آئی کے وکیل نہیں ہوئے پیش

Thumb

 
ملک بھر میں طلباء کے احتجاجی مظاہروں کے درمیان حکومت نے نیٹ پیپر لیک کے ملزمین کو سزا دلانے کے لیے ’فاسٹ ٹریک کورٹ‘ تشکیل دی ہے۔ پیپر لیک معاملے کی پہلی سماعت آج  بروز پیر، 27 جولائی کو دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں ’پبلک اگزامنیشنز (پریوینشن آف انفیئر مینز) ایکٹ، 2024‘ کے تحت تشکیل دی گئی ’فاسٹ ٹریک کورٹ‘ میں ہوئی۔ اطلاع کے مطابق سی بی آئی کی جانب سے آج معاملے کی سماعت میں کوئی بھی وکیل کورٹ میں پیش نہیں ہوا۔ سرکاری وکیل کے موجود نہیں ہونے کی وجہ سے سماعت کو 3 اگست تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
فاسٹ ٹریک کورٹ کی اسپیشل جج انو گروور بالیگا کو نیٹ- یوجی 2026 پیپر لیک معاملے میں گرفتار کیے گئے دنیش بیوال اور وکاس بیوال کی ضمانت عرضیوں پر سماعت کرنی تھی۔ کورٹ نے ’ڈائریکٹر پراسیکیوشن‘ کو نیٹ پیپر لیک معاملے کے لیے ’پبلک پراسیکیوٹر‘ کی تقرری کرنے کے لیے کہا ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ میں معاملے کی اگلی سماعت 3 اگست کو صبح 10 بجے ہوگی۔ دنیش بیوال اور وکاس بیوال، یہ دونوں ملزمین سی بی آئی کی جانب سے نیٹ- یوجی پیپر لیک سازش کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے 13 ملزمین میں شامل ہیں۔ جانچ ایجنسی کے مطابق ملزمین کا تعلق اُس نیٹورک سے ہے، جس نے امتحان سے پہلے پیپر لیک کیا اور بعد میں اسے متعدد امیدواروں تک پہنچایا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیپر لیک کے ملزمین کو سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ تشکیل دیے جانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے 23 جولائی کو سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اطلاع دی تھی۔ انہوں نے ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے نوجوان کا مفاد اور ان کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’پیپر لیک کے سبھی معاملات میں قصورواروں کو جلد از جلد سخت سزا دلانے اور مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹس تشکیل دی جائیں گی۔ اس سلسلے میں ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ متعلقہ محکمے ضروری کارروائی کو یقینی بنائیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘