ایس پی حکومت میں جے شری رام کا نعرہ لگانے والوں کو جیل بھیجا جاتا تھا : یوگی
بستی، 10 جولائی (یو این آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کو سماجوادی پارٹی (ایس پی) کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایس پی حکومت کے دوران جے شری رام کا نعرہ لگانے والوں کو جیل بھیجا جاتا تھا اور 84 کوسی پریکرما اور کانور یاترا پر پابندی لگائی جاتی تھی جبکہ آج ایس پی صدر اکھلیش یادو خود کانور یاترا میں شامل ہونے کے لیے پرجوش نظر آتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ہریا تحصیل میں واقع کستوربا گاندھی رہائشی اسکول کے احاطے میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ہریا اسمبلی حلقہ میں 85.54 کروڑ روپے کے 22 پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد، 275.76 کروڑ روپے کے 30 پروجیکٹوں کا افتتاح اور کپتان گنج اسمبلی حلقہ میں 62.08 کروڑ روپے کے آٹھ پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد اور 80.96 کروڑ روپے کے 17 مکمل پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ بستی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جبکہ ایس پی حکومت میں فسادات ہوتے تھے اور سکیورٹی کے انتظامات میں لگاتار نقب لگتی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت بہن بیٹیاں اور تاجر محفوظ نہیں تھے، جبکہ ڈبل انجن حکومت میں امن و قانون مضبوط ہوا ہے اور مجرموں میں خوف کا ماحول ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو کو ان واقعات کے لیے معافی مانگنی چاہئے، جن میں ہنومان گڑھی کی سیڑھیوں پر نماز پڑھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مختلف مذہبی مقامات پر پیدا ہوئے تنازعات کے پیچھے بھی ایس پی کی ذہنیت ذمہ دار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں وکست بھارت کے تصور کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وکست اتر پردیش اور وکست بستی کی سمت میں تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ گزشتہ نو برسوں میں ریاست میں نہ تو بڑے فساد ہوئے ہیں اور نہ ہی تاجروں کے خلاف جرائم کے واقعات پہلے جیسی پوزیشن میں ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ ایس پی حکومت میں قبرستانوں کی باؤنڈری وال بنانے میں خاص دلچسپی دکھائی جاتی تھی اور وقف کے نام پر زمین پر قبضہ کرنے کی کوششیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کارکنوں نے ایسے معاملات میں لوگوں کی زمین بچانے کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس عقیدت اور ترقی کی باتیں تو کرتی ہیں، لیکن اقتدار ملنے پر لوٹ کھسوٹ میں لگ جاتی ہیں۔ ان پارٹیوں کے دور حکومت میں کسان، طالب علم اور نوجوان تمام طبقات پریشان تھے، جبکہ مودی حکومت کی اسکیموں سے غریبوں، کسانوں، نوجوانوں اور محروم طبقات کو فائدہ مل رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایس پی حکومت کے دوران بستی کے لوگ بجلی کی تاروں پر کپڑے سکھاتے تھے اور بجلی صرف سیفئی تک محدود رہتی تھی۔ ترقی کی رقم کا استعمال سیفئی مہوتسو میں کیا جاتا تھا اور رام بھکتوں پر گولیاں چلائی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ متاثرہ ہندوؤں سے اکھلیش یادو معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ کانوڑ یاترا کے دوران لاکھوں عقیدت مند سریو کا جل لے کر بابا بھدیشور ناتھ مندر میں جل ابھیشیک کرتے ہیں۔ بابا بھدیشور ناتھ مندر کے ساتھ کرن مندر کو بھی ڈیولپ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب عوامی نمائندے ترقی کے تئیں عہدبند ہوتے ہیں، تبھی علاقے کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہو پاتی ہے۔
اس موقع پر کابینی وزیر سوریا پرتاپ شاہی، ایم ایل اے اجے سنگھ، گو سیوا آیوگ کے وائس چیئرمین مہیش کمار شکلا، ضلع پنچایت صدر سنجے چودھری، قانون ساز کونسل کے رکن سبھاش یدوونش، بی جے پی ضلع صدر ویویکانند مشرا، منڈل آیکت اکھلیش کمار سنگھ، ڈی آئی جی سنجیو تیاگی، ضلع مجسٹریٹ کرتیکا جیوتسنا، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر یشویر سنگھ، سابق ایم ایل اے دیا رام چودھری، روی سونکر سمیت بڑی تعداد میں عوامی نمائندے اور شہری موجود تھے۔
یو این آئی۔ این یو۔