Jadid Khabar

چین: جوتوں کی فیکٹری میں لگی آگ نے 28 لوگوں کی لی جان، تقریباً 200 لوگوں کا ریسکیو

Thumb

 
چین کے شہر جن جیانگ میں جمعرات کو جوتے بنانے کی ایک فیکٹری میں بھیانک آگ لگ گئی۔ اس حادثے میں 28 افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق اس دوران تقریباً 200 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ اس واقعہ کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سامنے آئی ہیں، جن میں عمارت اور اس کے اطراف سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آگ جمعرات کی دوپہر لگی تھی۔
چین کی وزارت ہنگامی انتظام (ایمرجنسی مینجمنٹ) نے آگ لگنے کے بعد ریسکیو اور راحتی کارروائیوں کے لیے امدادی ٹیمیں فوری طور پر مشرقی چین کے صوبہ فوجیان کے شہر جن جیانگ روانہ کر دیں۔ سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں عمارت سے خوفناک شعلے نکلتے اور آسمان کی جانب گہرا سیاہ دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ افراد آگ میں پھنسے ہوئے تھے اور دھوئیں میں گھری عمارت کی چھت پر نظر آ رہے تھے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے اس آتشزدگی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور حکام سے کہا ہے کہ وہ ریسکیو کارروائیوں میں اپنا پورا زور لگا دیں۔ انھوں نے حادثے کی وجہ معلوم کرنے اور جوابدہی طے کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ مقامی فائر بریگیڈ کے ایک افسر نے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کو بتایا کہ آگ بجھانے اور ریسکیو کا کام فوری شروع کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 4 بجے تک آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا۔ شنہوا کے مطابق جائے وقوعہ سے گہرا دھواں مسلسل اٹھتا رہا اور جمعرات کی شام تک متعدد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پانی کا چھڑکاؤ کرتی رہیں۔
اس ہولناک آتشزدگی واقعہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے فوری ریسکیو آپریشن چلانے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس حادثے میں جان و مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ملک کی پروڈکشن یونٹس میں پیش آنے والے متعدد حادثات کے بعد یہ مزید ایک بڑا سانحہ ہے۔ چینی صدر نے حکام کو اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔
ایک مقامی نیوز آؤٹ لیٹ کے مطابق یہ آگ جن جیانگ شہر کے چن دائی ٹاؤن کے جیانگ ٹاؤ گاؤں میں واقع ’ہوئی ٹینگ فٹ ویئر کمپنی لمیٹڈ‘ کی فیکٹری میں لگی۔ اب تک 28 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حادثے کے وقت فیکٹری میں 237 مزدور اور باہر سے آئے ہوئے 2 ڈیلیوری اہلکار موجود تھے۔ شنہوا کے مطابق حکام نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ پہلے فیکٹری کی نچلی منزل پر لگی، جس کے بعد اوپری منزلوں تک پھیل گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں جوتے بنانے کے لیے رکھا گیا سامان انتہائی آتش گیر تھا، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کمپنی کے ذمہ داران اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، ساتھ ہی کمپنی کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔