Jadid Khabar

حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج شہریوں کا حق، شہری حکومت کے غلام نہیں، ممبئی ہائی کورٹ

Thumb

ممبئی ، 3 جولائی (یو این آئی)  بامبے ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کرنا یا حکومت مخالف نعرے لگانا کسی شہری کو شہر بدر کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری سعید احمد عبدالواحد چودھری کے خلاف ڈپٹی پولیس کمشنر کی جانب سے جاری ایک سالہ شہر بدری کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے ساتھ "ہندوستانی حکومت کے غلام" جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔
 
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمعدار نے سعید احمد عبدالواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ درخواست گزار کو 3 دسمبر 2025 کو ممبئی پولیس کے زون 6 کے ڈپٹی پولیس کمشنر نے ایک سال کے لیے شہر بدر کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جسے بعد ازاں 27 مارچ 2026 کو کونکن ڈویژن کے ڈویژنل کمشنر نے بھی برقرار رکھا تھا۔  درخواست گزار کے خلاف مرکزی حکومت کے مختلف فیصلوں کے خلاف احتجاجی مارچ، دھرنے اور مظاہروں کے سلسلے میں پانچ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان میں شہریت ترمیمی قانون اور گیان واپی مسجد سے متعلق احتجاجی پروگرام بھی شامل تھے، جنہیں پولیس نے شہر بدری کی کارروائی کی بنیاد بنایا تھا۔
 
سماعت کے دوران جسٹس مادھو جمعدار نے کہا کہ درخواست گزار نے صرف "بی جے پی حکومت مردہ باد" اور "امت شاہ مردہ باد" جیسے نعرے لگائے تھے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ شہری ایسے نعرے کیوں نہیں لگا سکتے، کیونکہ پرامن احتجاج اور حکومت پر تنقید کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ پولیس عوامی خدمت انجام دینے والا سرکاری ادارہ ہے، نہ کہ وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کی ذاتی ملازم۔ عدالت نے پولیس کی کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مورچے یا دھرنے منعقد کرنا مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت کسی شخص کو شہر بدر کرنے کی قانونی وجہ نہیں بن سکتا۔
 
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ آئین ہند کے آرٹیکل 19 ہر شہری کو اظہار رائے اور پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 21 باوقار زندگی گزارنے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار کے خلاف کی گئی کارروائی ان بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف تھی۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ کسی شہری کے خلاف صرف اس بنیاد پر سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی کہ اس نے حکومتی فیصلوں کی مخالفت کی یا احتجاج میں حصہ لیا۔ عدالت نے ڈپٹی پولیس کمشنر اور ڈویژنل کمشنر دونوں کے شہر بدری کے احکامات منسوخ کرتے ہوئے درخواست گزار کو مکمل راحت فراہم کر دی۔