Jadid Khabar

تہران میں ہندوستانی وفد نے علی خامنہ ای کو پیش کیا خراج عقیدت

Thumb

 
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تقریبات ہفتہ (4 جولائی) سے شروع ہوں گی، جن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ مختلف ممالک کے وفود تہران پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس درمیان ہندوستان سے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ایران پہنچ چکی ہیں اور انھوں نے ہندوستانی وفد کے ساتھ سپریم لیڈر خامنہ ای کو خراج عقیدت بھی پیش کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محبوبہ مفتی کے ساتھ کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید بھی ایران پہنچ چکے ہیں۔ سلمان خورشید سمیت کئی دیگر شیعہ لیڈران نے صلاۃ الجنازہ، یعنی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد مرحوم کے لیے دعا بھی کی۔ ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران میں 2 کروڑ سے زائد افراد کی آمد متوقع ہے۔ آخری رسومات سے متعلق تقریبات 9 جولائی تک جاری رہیں گی۔ اس کے بعد خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً 36 برس تک ایران کی قیادت کرنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو امریکہ-اسرائیل کی فضائی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہو گئی، جس نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ اب امن معاہدہ ہونے کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں، جس کے بعد خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کرنے کا بھی فیصلہ ایران حکومت کے ذریعہ کیا گیا۔
سامنے آئی جانکاری کے مطابق خامنہ ای کی 6 روزہ آخری رسومات کے دوران 7 جولائی کو قم شہر میں بھی خصوصی مذہبی تقریبات اور تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ ایرانی حکام کا اندازہ ہے کہ ان 6 روزہ سوگ کی تقریبات کے دوران کروڑوں افراد سڑکوں پر نکلیں گے۔ پورے ایران میں خامنہ ای کے بڑے بڑے پوسٹر اور ہورڈنگز آویزاں کیے گئے ہیں
واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی آخری رسومات اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت دی تھی۔ حالانکہ وزیر اعظم مودی پہلے سے طے شدہ غیر ملکی دوروں کی وجہ سے اس وفد کا حصہ نہیں بن سکے۔ حکومت ہند کی جانب سے بہار کے گورنر سید عطاء حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پوترا مارگریٹا کو ہندوستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ وہ ایران میں ہندوستانی وفد کی قیادت کریں گے۔