Jadid Khabar

’ون نیشن، ون الیکشن سے بچیں گے 7 لاکھ کروڑ روپے‘، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کا اہم بیان

Thumb

’ون نیشن، ون الیکشن‘ تجویز پر غور و خوض کر رہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے چیئرمین پی پی چودھری نے منگل (19 مئی) کو ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرائے جانے پر ملک کو 7 لاکھ کروڑ روپے کی بچت ہو سکتی ہے اور بچائی گئی اس رقم کا استعمال ترقیاتی کاموں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ چودھری نے گجرات کے چیف سکریٹری کو تجویز کے متعلق تمام محکموں سے حاصل کردہ تجاویز پر ایک تفصیلی رپورٹ سونپنے کی بھی ہدایت دی۔

واضح رہے کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے کی تجویز پر غور و خوض کر رہی جے پی سی نے منگل سے گجرات کا 3 روزہ دورہ شروع کیا۔ پہلے روز کمیٹی نے گاندھی نگر کی گفٹ سٹی میں بیوروکریٹس، چیف سکریٹری ایم کے داس، حکمراں جماعت بی جے پی کے عہدیداران اور مختلف محکموں کے سکریٹریوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے پی سی کے چیئرمین اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ چودھری نے کہا کہ ’’ریاستی حکومت کے افسران نے تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں ان اہم مسائل پر روشنی ڈالی گئی جن پر پہلے غور و خوض نہیں کیا گیا تھا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے انہیں ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جسے بعد میں ملک کی دیگر ریاستی حکومتیں ایک ماڈل کے طور پر اپنا سکتی ہیں۔ رپورٹ میں صنعتوں، پیداوار میں کمی، مزدوروں کی نقل مکانی، روزگار، جی ایس ٹی کی وصولی، معیشت، سیاحت اور تعلیم پر پڑنے والے اثرات کا جامع جائزہ ہونا چاہیے۔‘‘
پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ چیف سکریٹری کو مزید غور و خوض اور کارروائی کے لیے ایک جامع رپورٹ پیش کرنی چاہیے۔ آج کی بحث انتہائی مثبت اور تعمیری رہی۔ واضح رہے کہ چودھری کی صدارت میں 41 رکنی پارلیمانی کمیٹی ایک ساتھ انتخابات کرانے سے متعلق 2 مجوزہ قوانین – آئین (129 ویں ترمیم) بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل پر غور کر رہی ہے۔ چودھری نے دعویٰ کیا کہ اگر ایک ساتھ انتخاب کرائے جاتے ہیں تو ملک کو 7 لاکھ کروڑ روپے کی بچت ہوگی اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 1.6 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق ماہرین اقتصادیات نے بھی یہی کہا ہے کہ اس سے جی ڈی پی میں 1.6 فیصد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر ایک ساتھ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو ملک 7 لاکھ کروڑ روپے بچا سکتا ہے۔ اس رقم کا استعمال بنیادی ڈھانچے کی ترقی، غریبوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور دیگر عوامی فلاحی کاموں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ اس سے قبل مرکز نے سابق صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کی صدارت میں اس مسئلے پر غور و خوض کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ چودھری نے کہا کہ وہ ایک ساتھ انتخابات کرانے کے طریقوں پر بحث کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے 6 سابق چیف جسٹس نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ اس سے وفاقی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے یا بنیادی حقوق کے حوالے سے کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔ چودھری نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جسے حکومت نے قبول کر لیا ہے۔
جے پی سی کے چیئرمین پی پی چودھری نے کہا کہ کمیٹی نے تقریباً 18000 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جسے حکومت نے قبول کر لیا ہے۔ رپورٹ میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرائے جانے کی سفارش بھی شامل ہے۔ چودھری نے بتایا کہ سفارشات کے مطابق لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہئیں، جبکہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے 100 دنوں کے اندر مکمل ہو جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق اس اصلاح سے مسلسل انتخابات کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور حکومتوں کو حکمرانی، ترقی، غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور مجموعی قومی ترقی کے لیے زیادہ وقت اور وسائل لگانے کا موقع ملے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کمیٹی تفصیلی مطالعہ کر رہی ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس کے اراکین اور پارلیمنٹ دونوں ہی جماعتی سیاست سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد میں کام کریں گے۔
احمدآباد پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جے پی سی کے چیئرمین نے کہا کہ ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کا تصور قومی مفاد میں ہے اور اسے کئی اداروں اور کمیٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ یا ریٹائرڈ جج کی صدارت والے لا کمیشن آف انڈیا نے بھی کہا ہے کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق نیتی آیوگ نے بھی اپنے دستاویزات میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی وکالت کی ہے، جبکہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے اراکین پر مشتمل پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔
پی پی چودھری نے بتایا کہ کمیٹی گجرات پہنچنے سے قبل مہاراشٹر، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، ہریانہ، پنجاب اور کرناٹک کا دورہ کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری کوشش سب کی بات سننا اور تمام نقطہ نظر کو ذہن میں رکھنا ہے۔ جب ہم پارلیمنٹ کو اپنی سفارشات سونپیں گے تو ہمارا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان وسیع اتفاق رائے قائم ہو۔‘‘