Jadid Khabar

مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی بحران بڑھا لیکن حکومت خود کی تشہیر میں مصروف ہے: کھرگے

Thumb

نئی دہلی، 20 مئی (یو این آئی) کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ملک سنگین اقتصادی بحران میں ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی قیادت والی حکومت صرف اپنی تشہیر میں مصروف ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی بحران سنگین حد تک بڑھ گیا ہے اور عوام پر معاشی بوجھ تھوپ دیا گیا ہے۔

مسٹر کھرگے نے بدھ کو سوشل میڈیا 'ایکس' پر لکھا کہ مسٹر مودی عوام کو تقریروں کی 'مٹھاس' سنانا چاہتے ہیں، جبکہ عام لوگ ان کی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی 'مشکلات' کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 11 برسوں میں ہر ہندوستانی پر اوسط قرض کئی گنا بڑھ گیا ہے، جبکہ چند منتخب صنعت کاروں کے اثاثوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں گھریلو رسوئی گیس سلنڈر اور کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سی این جی، دودھ، بریڈ، دوائیوں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسوں اور ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے عوام پر اضافی معاشی بوجھ ڈالا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نوجوانوں کے درمیان بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور بھرتی امتحانات کے  پرچے (پیپر) لیک ہونے کے واقعات نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ پیپر لیک ہونے کے واقعات کی وجہ سے سرکاری بھرتی کے عمل پر نوجوانوں کا بھروسہ کمزور ہوا ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ روپے کی قیمت میں گراوٹ، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ جیسے اشارے ملک کی معیشت کی چیلنجنگ صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ سرکاری راشن کی امداد پر منحصر ہو گئے ہیں۔

کانگریس صدر نے کہا کہ ملک کی معیشت کئی چیلنجوں سے گزر رہی ہے لیکن حکومت ان مسائل کے حل کے بجائے تشہیر اور تعلقاتِ عامہ (پبلک ریلیشنز) کی سرگرمیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔