Jadid Khabar

سومناتھ مندر ہندوستان کے اٹوٹ عقیدے کی علامت، ایک ہزار برسوں کے لیے تحریک کا سرچشمہ : مودی

Thumb

سومناتھ، 11 مئی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز یہاں نئے سرے سے تعمیر شدہ سومناتھ مندر کے افتتاح کی 75 ویں سالگرہ پر منعقدہ 'سومناتھ امرت مہوتسو' کے موقع پر کہا کہ یہ اٹوٹ عقیدے، روحانیت اور ہندوستان کی سناتن روح کی مقدس علامت ہے جو آنے والے ایک ہزار برسوں کے لیے تحریک کا سرچشمہ ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ 75 برس قبل اسی دن سومناتھ مندر کی دوبارہ تعمیر کوئی معمولی موقع نہیں تھا بلکہ سومناتھ کی 'پران پرتشٹھا' نے ہندوستان کے آزاد شعور کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم نے قومی تاریخ کے ایک اور اہم واقعے یعنی 11 مئی 1998 کے پوکھرن ایٹمی تجربات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستانی سائنسدانوں کی صلاحیتوں کا مظاہرہ اور اٹوٹ سیاسی عزم کا ثبوت تھا۔ انہوں نے ترقی اور وراثت دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا اور تفرقہ انگیز سوچ کے خلاف ہوشیار رہنے کی اپیل کی۔

مسٹر مودی نے اس تقریب کو محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ہندوستان کے سناتن شعور اور تہذیبی استقامت کا اعلان قرار دیا۔ سال 1951 میں سومناتھ مندر کی پران پرتشٹھا کی تاریخی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کوئی عام موقع نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 1947 میں ہندوستان آزاد ہوا، تو 1951 میں سومناتھ کی پران پرتشٹھا نے ہندوستان کے آزاد شعور کا اعلان کیا۔ آزادی کے صرف چار سال بعد مندر کی دوبارہ تعمیر کی اہمیت پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب قوم غیر ملکی زنجیروں سے آزاد ہوئی، اسی وقت سومناتھ کی تعمیرِ نو نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہندوستان صرف آزاد ہی نہیں ہوا ہے بلکہ وہ اپنی قدیم عظمت کو دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ اس موقع کی کثیر جہتی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صرف 75 برسوں کی تاریخ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں تباہی میں تخلیق کا وہ عزم دیکھ رہا ہوں جسے سومناتھ نے پورا کیا ہے۔ انہوں نے اس مقدس سرزمین میں باطل پر حق کی دائمی فتح کے تجربے کی بات کہی۔ وزیر اعظم نے مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سومناتھ امرت مہوتسو محض ماضی کی یاد منانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ماضی کا جشن نہیں بلکہ آنے والے ایک ہزار برسوں کے لیے ہندوستان کی تحریک بھی ہے۔

انہوں نے اس دن کو قومی تاریخ کے ایک اور اہم واقعے سے بھی جوڑا اور کہا کہ 1998 میں آج ہی کے دن کیے گئے پوکھرن ایٹمی تجربات کی سالگرہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 11 مئی کو تین ایٹمی تجربات کر کے ہندوستانی سائنسدانوں کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس کے دو دن بعد 13 مئی کو کیے گئے اضافی تجربات کو انہوں نے ہندوستان کے اٹوٹ سیاسی عزم کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کا دباؤ ہندوستان پر تھا، لیکن اٹل جی کی قیادت میں اس وقت کی حکومت نے دکھا دیا کہ ہمارے لیے قوم سب سے مقدم ہے، دنیا کی کوئی طاقت ہندوستان کو جھکا نہیں سکتی اور نہ ہی دباؤ میں لا سکتی ہے۔ اس مہم کے نام کی اہمیت واضح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پوکھرن ایٹمی تجربے کو 'آپریشن شکتی' کا نام گہرے ثقافتی اسباب کی بنا پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شیو اور شکتی کی مشترکہ عبادت کا فلسفہ اب ہندوستان کی سائنسی ترقی کو بھی تحریک دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اس عزم کو شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ رہے ہیں کہ ہماری شیو اور شکتی کی عبادت ملک کی سائنسی ترقی کی تحریک بھی بنے۔