ایشیا کے امیر ترین شخص بنے گوتم اڈانی، مکیش امبانی رہ گئے پیچھے
نئی دہلی: معروف صنعت کار اور اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی ایشیا کے سب سے امیر شخص بن گئے ہیں۔ انہوں نے مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گوتم اڈانی کی مجموعی دولت بڑھ کر 92.6 ارب ڈالر ہو گئی ہے، جس کے بعد وہ عالمی سطح پر 19ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
دوسری طرف ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ مکیش امبانی کی دولت 90.8 ارب ڈالر رہ گئی ہے اور وہ ایک درجہ نیچے کھسک کر 20ویں مقام پر آ گئے ہیں۔ اس تبدیلی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی معیشت میں جاری اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات امیر ترین افراد کی درجہ بندی پر بھی پڑ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اڈانی گروپ کے شیئروں میں حالیہ تیزی اس بڑی پیش رفت کی اہم وجہ بنی ہے۔ گھریلو شیئر بازار میں جمعرات کے کاروباری سیشن کے دوران اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے حصص میں زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس نے اہم انڈیکس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اسی تیزی کے نتیجے میں ایک ہی دن میں گوتم اڈانی کی دولت میں تقریباً 3.56 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
عالمی سطح پر اگر بات کی جائے تو پہلے مقام پر ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک بدستور قابض ہیں، جن کی دولت 656 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ ان کے بعد گوگل کے شریک بانی لیری پیج 286 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس فہرست میں دیگر بڑے ناموں میں جیف بیزوس، مارک زکربرگ، لیری ایلیسن، مائیکل ڈیل، جینسن ہوانگ اور برنارڈ ارنو شامل ہیں۔
قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ سال 2026 کے دوران دنیا کے ٹاپ 20 امیر ترین افراد میں سے سات کی دولت میں کمی درج کی گئی ہے۔ خاص طور پر برنارڈ ارنو کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جن کی مجموعی دولت میں تقریباً 44 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیو بالمر، بل گیٹس، وارن بفیٹ اور امانسیو اورتیگا جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی دولت میں بھی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
علاقائی اور شعبہ جاتی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی شعبے سے وابستہ ارب پتیوں کا اثر و رسوخ اب بھی برقرار ہے، جبکہ صنعتی، توانائی اور خوردہ شعبوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔
دیگر ہندوستانی ارب پتیوں میں لکشمی متل 36.9 ارب ڈالر کے ساتھ 62ویں مقام پر ہیں، جبکہ شیو نادر 33.5 ارب ڈالر کے ساتھ 70ویں نمبر پر موجود ہیں۔ شاپور مستری اور ان کا خاندان 33.2 ارب ڈالر کے ساتھ 71ویں مقام پر ہیں، جبکہ ساوتری جندل 32.7 ارب ڈالر کے ساتھ 73ویں نمبر پر ہیں۔ اس کے علاوہ سنیل متل، عظیم پریم جی، کمار منگلم برلا اور رادھا کشن دامانی بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
اسی دوران اڈانی گروپ کی کمپنیوں جیسے اڈانی ٹوٹل گیس، اڈانی پورٹس اور اڈانی پاور کے حصص میں بھی جمعہ کے روز انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران تین فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔