Jadid Khabar

مہنگائی پر کانگریس کا حملہ، ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا

Thumb

ملکارجن کھڑگے نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ملک کی معاشی اور حکمت عملی پالیسیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ یکم اپریل سے روزمرہ کی کئی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے 140 کروڑ عوام متاثر ہوں گے۔

کھڑگے کے مطابق کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ہوٹلوں اور ڈھابوں کو متاثر کرے گا بلکہ مڈ ڈے میل جیسی اسکیموں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر ٹربائن فیول مہنگا ہونے سے ہوائی سفر بھی مزید مہنگا ہو جائے گا اور حکومت کی جانب سے پرائس کیپ ہٹانا عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ 900 سے زائد ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ذیابیطس، کینسر اور آئی سی یو جیسے علاج مزید مہنگے ہو جائیں گے۔ خاص طور پر دل کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والے اسٹینٹ کی قیمتوں میں اضافے کو انہوں نے تشویشناک قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے علاج عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہو جائے گا۔
کھڑگے نے ٹول ٹیکس اور اسپیڈ پوسٹ کی قیمتوں میں اضافے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں، ایسے میں مزید بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے اسے ’ہائی وے لوٹ‘ سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت کی نیت پر سوال اٹھایا۔
پوسٹ کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو میں بھی یہی مؤقف دہرایا گیا ہے کہ یکم اپریل کو ’لوٹ کا دن‘ بنا دیا گیا ہے۔ ویڈیو میں مختلف اشیاء جیسے پلاسٹک، اسٹیل، سیمنٹ اور بٹومین کی قیمتوں میں 30 سے 50 فیصد تک اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس سے تعمیراتی شعبہ اور کسان دونوں متاثر ہوں گے۔ پی وی سی پائپ مہنگے ہونے سے آبپاشی کے اخراجات بڑھنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔
ویڈیو میں گھریلو اور کمرشیل ایل پی جی، ایئر ٹربائن فیول، ہوائی کرایوں اور دیگر خدمات کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر ضرورت پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے جبکہ آمدنی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔ اس میں کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے صنعتکاروں کو سب سے زیادہ متاثر طبقہ قرار دیا گیا ہے۔ کانگریس صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی ’اچھے دن‘ ہیں اور حکومت سے جواب طلب کیا کہ اس کی پالیسیوں کا بوجھ عوام کیوں برداشت کرے۔