سری نگر،2 مارچ (یو این آئی) جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بحران نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری خصوصاً اقوامِ متحدہ اور امن پسند ممالک پر زور دیا کہ وہ فوراً مداخلت کرکے اس تنازعہ کے خاتمے کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں انجام دیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں بن سکتیں اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صرف بات چیت، افہام و تفہیم اور سیاسی بصیرت ہی دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے طاقتور ممالک بھی سفارتی راہ اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں، جو دانشمندانہ اور قابلِ ستائش رویہ ہے۔
سابق وزیراعلیٰ نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کن جنگوں میں لاکھوں انسان لقمۂ اجل بنے، وسیع و عریض علاقے کھنڈرات میں بدل گئے اور کئی ترقی یافتہ اقوام تہس نہس ہوکر رہ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ جنگ صرف بربادی، بھوک، مہاجرت اور انسانی المیے کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے صہیونی طاقتوں کے نشانے پر رہا ہے اور اس سے قبل فلسطین، عراق، شام، افغانستان، یمن اور لبنان جیسے ممالک بھی انہی قوتوں کی مداخلت اور سازشوں کے نتیجے میں عدم استحکام اور جنگی تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں انصاف، باہمی احترام اور مذاکرات کے اصولوں کو اپناتے ہوئے موجودہ بحران کے حل کی طرف بڑھیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اُمتِ مسلمہ سے اتحاد و اتفاق کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمانوں میں یکجہتی ہو تو کوئی طاقت کسی مسلم ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ مسلم ممالک مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں تاکہ بحران مزید نہ بڑھے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کشیدگی جلد کم ہوگی، خاص طور پر رمضان المبارک کے پیش نظر امن کی بحالی ہر فریق کی ترجیح ہونی چاہیے۔ آخر میں انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ہر سطح پر اتحاد، ضبط و تحمل اور امن و امان برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ امن ہی ترقی اور خوش حالی کی بنیاد ہے۔