نئی دہلی، 21 فروری (یو این آئی) کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ہفتے کے روز ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے اعلان کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں ملک کے مفادات کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں جے رام رمیش نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان بیانات کا حوالہ دیا جو ان کی درآمدی محصولات کی پالیسی کو منسوخ کرنے کے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سامنے آئے۔ کانگریس رہنما کے مطابق مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ان کے 'قریبی دوست' ہیں۔ ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدہ اعلان کے مطابق جاری رہے گا اور انہوں نے ذاتی طور پر 10 مئی 2025 کو ہندوستانی سامان پر درآمدی محصول بڑھانے کی دھمکی دے کر 'آپریشن سندور' کو روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔
مسٹر رمیش نے امریکی صدر کے گزشتہ دو فروری کے اس بیان کا بھی ذکر کیا، جس میں ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے مسٹر ٹرمپ کے حوالے سے کہا ہے کہ 'وزیر اعظم مودی کے ساتھ دوستی اور احترام کے باعث اور ان کی درخواست پر، فوری اثر سے ہم امریکہ اور ہندوستان کے درمیان ایک تجارتی معاہدے پر متفق ہوئے ہیں'۔
کانگریس رہنما نے اس اعلان کے وقت پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ 'وزیر اعظم مودی کو ہندوستانی وقت کے مطابق 2 فروری کی رات صدر ٹرمپ سے ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان کروانے کے لیے کس نے مجبور کیا؟ اس دوپہر میں لوک سبھا میں ایسا کیا ہوا تھا، جس نے مسٹر مودی کو اتنا مایوس کر دیا اور توجہ ہٹانے کے لیے وائٹ ہاؤس میں اپنے قریبی دوست سے رابطہ کرنے پر مجبور کیا؟'
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے سیاسی مجبوری میں یہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت صرف 18 دن اور انتظار کر لیتی تو ہندوستانی کسانوں کو ان کی تکلیف اور بحران سے بچایا جا سکتا تھا اور ہندوستانی خودمختاری کا تحفظ کیا جا سکتا تھا'۔ اس معاہدے کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم کی مایوسی اور سپردگی کے باعث ملک کو ہندوستان۔ امریکہ تجارتی معاہدے کی صورت میں سخت آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے'۔