Jadid Khabar

شرد پوار نے کی راہل گاندھی کی حمایت، کہا- ’اپوزیشن لیڈر کو بولنے سے نہیں روکنا چاہئے‘

Thumb

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر جاری بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ذریعہ چین کا معاملہ اٹھانے پر مچے ہنگامے کے درمیان سینئر لیڈر شرد پوار نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نے بارامتی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو بولنے کا موقع دیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ نرونے آرمی چیف کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور اگر اپوزیشن اس مسئلہ پر بات کر رہا ہے تو راہل گاندھی کو لوک سبھا میں بولنے دینا چاہئے تھا۔

اس سے پہلے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے بھی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ اصول و ضوابط صرف اپوزیشن پر لاگو ہوتے ہیں۔ جب حکمران جماعت کے ارکان غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں اور متنازعہ الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ہم نے ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوتے نہیں دیکھی۔ نہ ہی کوئی تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے اور نہ ہی کسی رکن اسمبلی کو معطل کیا گیا ہے۔ گزشتہ دو روز سے مسلسل اپوزیشن لیڈر کی تقریر میں دخل دیا جا رہا ہے، ایوان بار بار ملتوی کیا جا رہا ہے۔ کیا یہی جمہوریت ہے؟ وہ کسی کو بولنے نہیں دینا چاہتے بلکہ اپنی شرائط پر بولنے کا حق دینا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ پیر کو راہل گاندھی نے ایوان میں کہا تھا کہ مجھے بتایا جائے کہ مجھے کیا بولنا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہمیں 20 لاکھ لوگوں نے منتخب کرکے بھیجا ہے، ان کے مطالبات کو اٹھانا ہمارا حق ہے، ہمیں بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا، لیکن ایوان جس طرح سے برتاؤ کر رہا ہے وہ جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔
دریں اثنا لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ جب وزیر اعظم ایوان میں تقریر کرنے آئیں گے تو وہ ذاتی طور پر جنرل ایم ایم نرونے کی کتاب انہیں پیش کریں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ نرونے کی کتاب ہے، جس میں پورے واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ وہ کتاب کا براہ راست حوالہ نہیں دے سکتے لیکن اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ جو ٹھیک سمجھو، وہ کرو۔ راہل گاندھی کے مطابق جب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل نرونے نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو فون کرکے بتایا کہ چینی ٹینک کیلاش ریج پر پہنچ گئے ہیں اور پوچھا کہ کیا کیا جائے تو انہیں شروع میں کوئی واضح جواب نہیں ملا۔
رائے بریلی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ نرونے نے وزیر خارجہ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اور دیگر اعلیٰ سطحوں سے رابطہ کیا لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ بعد میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ ’ٹاپ سے پوچھیں گے‘ اور وہاں سے حکم آیا کہ اگر چینی افواج ہماری سرحد میں داخل ہوتی ہیں تو کوئی بلاجواز فائرنگ نہیں کی جائے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اس وقت فوج گولی چلانا چاہتی تھی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام آیا کہ جو مناسب سمجھو کرو۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے اپنی ذمہ داری کو نظر انداز کیا اور فیصلہ فوج پر چھوڑ دیا۔