Jadid Khabar

الہ آباد ہائی کورٹ میں پانچ ایڈہاک جج مقرر، سپریم کورٹ کالجیئم کی منظوری

Thumb

نئی دہلی، 4 فروری (یو این آئی) سپریم کورٹ کالجیئم نے منگل کو آئین کے آرٹیکل 224 اےکا استعمال کرتے ہوئے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے پانچ ریٹائرڈ ججوں کو دو سال کی مدت کے لیے ایڈہاک جج کے طور پر دوبارہ مقرر کرنے کو منظوری دی ہے۔ یہ قدم فوجداری معاملات کے بڑی تعداد میں زیر التواء ہونے کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ 


چیف جسٹس  سوریہ کانت، جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس جے کے مہیشوری پر مشتمل کالجیم نے جسٹس محمد فیض عالم خان، محمد اسلم، سید آفتاب حسین رضوی، رینو اگروال اور جیوتسنا شرما کو الہٰ آباد ہائی کورٹ کے ایڈہاک جج مقرر کرنے کی منظوری دی۔ 


ان تقرریوں کے بعد الہٰ آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھ کر 115 ہو جائے گی، تاہم یہ اب بھی منظور شدہ 160 ججوں کی تعداد سے کم ہے۔ امید ہے کہ ان تقرریوں سے بالخصوص فوجداری مقدمات کے زیر التوا معاملات کے تصفیے میں مدد ملے گی۔ 


آئین میں یہ بندوبست ہے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، صدرِ جمہوریہ کی پیشگی منظوری سے زیر التوا معاملوں کی زیادتی یا اسامیوں کی کمی کی صورت میں ریٹائرڈ ججوں کو ایڈہاک جج کے طور پر مقرر کر سکتے ہیں، تاہم آرٹیکل 224 اےکے تحت ایسی تقرریاں شاذ و نادر ہی کی گئی ہیں۔ 


اس سے قبل سپریم کورٹ نے ایسی تقرریاں صرف تین مرتبہ کی ہیں، 1972 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں جسٹس سورج بھان، 1982 میں مدراس ہائی کورٹ میں جسٹس پی۔ وینوگوپال اور 2007 میں الہٰ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس او۔ پی۔ شریواستو کی تقرری عمل میں آئی تھی۔ سپریم کورٹ نے 2021 کے ایک فیصلے میں اس 'غیر فعال' آئینی شق کے دوبارہ استعمال کی وکالت کی تھی جسے ہائی کورٹس میں بڑی تعداد میں زیر التوا معاملوں کے حل کے ایک مؤثر طریقے کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ 


ذرائع کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت نے موجودہ عمل اس وقت شروع کیا جب انہوں نے دیکھا کہ ہائی کورٹس سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 224 اے کے استعمال سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔ اس کے بعد تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو ایڈہاک ججوں کے لیے سفارشات طلب کرنے کے خطوط ارسال کیے گئے۔ 


اب تک تین ہائی کورٹس سے ایسی سفارشات موصول ہوئی ہیں جن میں سے الہٰ آباد ہائی کورٹ کی سفارش کو منظوری دے دی گئی ہے۔ باقی سفارشات پر غور کے لیے کالجیم کے دوبارہ اجلاس کی توقع ہے جبکہ دیگر ہائی کورٹس ابھی تجاویز بھیجنے کے عمل میں ہیں۔ 


گزشتہ سال دسمبر میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے 2021 کے فیصلے کی وضاحت کی اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو ایڈہاک ججوں کو شامل کرتے وقت مزید اجازت دی۔ اس سے قبل جنوری 2025 میں تین ججوں کی بنچ نے ایڈہاک ججوں کی تقرری کی شرائط میں مزید نرمی کی اور 20 فیصد سے کم اسامیوں کی کمی کی صورت میں بھی ایسی تقرریوں کی اجازت دی تھی۔ تاہم 2021 کے فیصلے میں یہ بات دہرائی گئی تھی کہ آرٹیکل 224 اے کا سہارا تب ہی لیا جانا چاہیے جب مستقل عدالتی اسامیوں کو پُر کرنے کے اقدامات کیے جا چکے ہوں۔ 


ذرائع کے مطابق الہٰ آباد ہائی کورٹ میں مقرر کیے گئے پانچ ایڈہاک ججوں کا انتخاب بالخصوص طویل عرصے سے زیر التواء فوجداری اپیلوں، ضمانت کے معاملات اور شخصی آزادی سے متعلق مقدمات کے تصفیے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایڈہاک ججوں کی تقرری کا عمل نسبتاً تیز ہوتا ہے کیونکہ یہ جج پہلے ہی بنچ میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہوتے ہیں۔ ہائی کورٹ کا کالجیم ان کے سابقہ فیصلوں کا جائزہ لیتا ہے اور نئی تقرریوں کے برعکس عموماً ان کے لیے خفیہ معلومات طلب نہیں کی جاتی الا یہ کہ کوئی سنگین کوتاہی سامنے آئی ہو۔ 
یو این آئی۔ اے ایم