کیف، 2 فروری (یو این آئی ) یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے میں روسی ڈرون حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق ڈرون حملے میں کان کنوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا گیا، اس حملے میں سات افراد زخمی بھی ہوئے، جن کی حالت تشویشناک ہے۔
یوکرین کی اسٹیٹ ایمرجنسی سروس کی شائع کردہ تصاویر میں ایک خالی بس دکھائی دے رہی ہے جس کے سائیڈ کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور ونڈ اسکرین سامنے لٹک رہی ہے، قبل ازیں علاوہ ازیں دنیپرو میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک مرد اور خاتون جان سے گئے جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کیلئے دو روزہ مذاکرات چار اور پانچ فروری کو ابو ظہبی میں ہوں گے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بیان میں کہا کہ روسی، یوکرینی اور امریکی حکام کے درمیان امریکی تیار کردہ منصوبے پر بات چیت کا دوسرا دور بدھ سے شروع ہوگا۔ زیلنسکی نے کہا کہ ابوظہبی میں 4 اور 5 فروری کو یہ مذاکرات ہوں گے۔
پوتن کے ایک اہم ایلچی کرل دمتریئیف نے ہفتہ کو فلوریڈا میں امریکی حکام سے اچانک ملاقات کی جس میں ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ، ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر اور وائٹ ہاؤس سینئر ایڈوائزر جوش گروئنبام شامل تھے۔
تاہم کریملن اور امریکہ نے نئی تاریخوں کی تصدیق نہیں کی ہے، دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً چار سالہ یوکرین جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے قریب ہے، لیکن ماسکو اور کیئف علاقائی تنازع پر سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔