Jadid Khabar

بی جے پی مذہب کی بنیاد پر اداروں کو نشانہ بنا رہی ہے: کانگریس

Thumb

نئی دہلی، 17 جنوری (یواین آئی) کانگریس نے حکومت پر تعلیم کے نظام کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیاری تعلیم کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دور حکومت میں تعلیم کو بھی سیاسی ایجنڈے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 
کانگریس کے جموں و کشمیر کے انچارج جنرل سیکریٹری ناصر حسین نے ہفتہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی نے تعلیم کو مذاق بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے بیتول میں عبدالنعیم نے اپنی ذاتی رقم 20-22 لاکھ روپے خرچ کر کے ایک اسکول تعمیر کروایا تاکہ وہاں کے بچوں کو معیاری تعلیم مل سکے۔ نعیم نے تمام قانونی اجازت نامے اور لائسنس حاصل کر کے اسکول شروع کیا، لیکن بی جے پی کے ایکو سسٹم نے افواہ پھیلائی کہ وہاں مدرسہ چلایا جا رہا ہے، حالانکہ اس گاؤں میں صرف تین مسلمان فیملی رہتی ہے اور باقی سب قبائلی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ 
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ضلع کلکٹر نے بغیر کسی جانچ اور نوٹس کے اسکول پر بلڈوزر چلا دیا۔ اسی طرح جموں و کشمیر میں بھی ایک میڈیکل کالج کو بند کر دیا گیا۔ کرناٹک کے بیلگاوی میں ایک اسکول کے مسلم ہیڈ ماسٹر کو ہٹانے کے لیے کچھ انتہا پسند عناصر نے پانی کی ٹنکی میں زہر ملا دیا، جس سے کئی بچے بیمار ہو گئے، لیکن جب جانچ ہوئی تو چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ 
انہوں نے کہا کہ آسام کے نلباڑی میں 24 دسمبر کو سینٹ میری کرسمس اسکول میں تہوار کی تمام تیاریاں تباہ کر دی گئیں۔ اتر پردیش میں پہلے کرسمس کی چھٹی ہوا کرتی تھی، لیکن وشو ہندو پریشد جیسے تنظیموں نے اس بار چھٹی نہ دینے اور جشن نہ منانے کا مطالبہ کیا، جسے بی جے پی حکومت نے قبول کر لیا۔ 
مودی حکومت میں تعلیم کی حالت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیتول کے معاملے میں کیا کلکٹر بتائیں گے کہ ان پر کس کا اور کیسا دباؤ تھا، اور اگر کوئی افسر دباؤ میں آ کر اسکول گرا رہا ہے تو کیا ان کی تربیت مسوری میں ہو رہی ہے یا ناگپور میں۔ ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں اچانک معائنہ کیوں کیا گیا، شکایت کس نے کی تھی، کیا کالج پر کارروائی عوامی دباؤ کی وجہ سے کی گئی؟ 
کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ کیا حالات اتنے سنگین تھے کہ پورے میڈیکل کالج کو ہی بند کرنا پڑا؟ کیا امتحانی نظام کے بارے میں معلومات نہیں لی گئی تھیں؟ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ستمبر میں میڈیکل کالج کو ایم بی بی ایس کورس کی اجازت دی گئی تھی، تو کیا اس سے پہلے انفراسٹرکچر کی جانچ نہیں کی گئی تھی؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح ای ڈی، سی بی آئی، انکم ٹیکس اور الیکشن کمیشن کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، کیا اسی طرح نیشنل میڈیکل کمیشن کا بھی غلط استعمال ہو رہا ہے؟ 
انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیمی اداروں کا کھلے عام بھگوا کرن کیا جا رہا ہے۔ تنقیدی سوچ کو فروغ دینے والے اور سائنسی نقطہ نظر اپنانے والے اداروں پر بھی مختلف طریقوں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ جامعہ، اے ایم یو جیسے کئی اداروں کا بجٹ کم کر دیا گیا ہے اور جے این یو کو کوئی اضافی بجٹ نہیں دیا گیا ہے۔ نئے مراکز کھل رہے ہیں، نئے طلبہ آ رہے ہیں لیکن فنڈ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ آج اچھے طلبہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت پورے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ریاستوں میں ہر سال اسکول بند ہو رہے ہیں۔ سرکاری اساتذہ کی بھرتی نہیں کی جا رہی ہے۔