کرور میں پیش آئے جان لیوا بھگدڑ معاملہ میں جنوبی ہند کے معروف اداکار اور تملگا ویتری کزگم (ٹی وی کے) کے سربراہ وجے سے پیر کے روز مرکزی تفتیشی بیورو نے مسلسل چھ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی۔ سی بی آئی دفتر سے باہر نکلتے وقت وجے قدرے پریشان نظر آئے، جس کے بعد معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سی بی آئی نے وجے سے کرور میں منعقد سیاسی جلسہ، انتظامات، بھیڑ کے کنٹرول اور واقعہ سے پہلے و بعد کی صورت حال پر تفصیلی سوالات کیے۔ پوچھ تاچھ کے دوران وجے نے واضح کیا کہ بھگدڑ کے واقعہ میں نہ تو ان کی سیاسی جماعت ذمہ دار ہے اور نہ ہی وہ خود۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی حالات بگڑنے لگے، انہوں نے اسٹیج سے اپنی تقریر روک دی اور فوری طور پر وہاں سے روانہ ہو گئے تاکہ مزید بدنظمی نہ پھیلے۔
سی بی آئی اس معاملہ میں مقامی پولیس کی جانب سے دیے گئے بیانات کو بھی وجے کے موقف سے ملا کر دیکھ رہی ہے۔ پولیس کے کچھ بیانات میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وجے کے جلسہ میں تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے بھیڑ بے قابو ہوئی، کیونکہ ان کی آمد کی خبر پہلے ہی پھیل چکی تھی اور مقررہ تعداد سے کہیں زیادہ لوگ جلسہ گاہ میں موجود تھے۔ تفتیشی ایجنسی انہی نکات پر مختلف زاویوں سے جانچ کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ 27 ستمبر 2025 کو تمل ناڈو کے ضلع کرور میں ایک سیاسی عوامی اجتماع کے دوران اچانک بھگدڑ مچ گئی تھی، جس کے نتیجہ میں 41 افراد کی موت واقع ہوئی جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس المناک حادثہ کے بعد وجے نے ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو فی کس 20 لاکھ روپے کی مالی مدد کا اعلان کیا تھا اور بعض متاثرہ خاندانوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بات چیت بھی کی تھی۔
وجے گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے تمل سنیما کا ایک نمایاں نام ہیں۔ انہوں نے 2024 میں اپنی سیاسی جماعت تملگا ویتری کزگم کی بنیاد رکھی۔ فلمی کیریئر کا آغاز انہوں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا تھا اور بعد ازاں سماجی موضوعات پر مبنی فلموں کے ذریعے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ ان کے مداح انہیں احتراماً ’تھلاپتی‘ کہتے ہیں۔ سی بی آئی کی تفتیش جاری ہے اور آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔