کرسمس سیزن کے دوران کینیڈا کے وینکوور ہوائی اڈے پر ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کو’ شراب نوشی‘ مہنگی پڑگئی۔ پائلٹ کو دہلی جانے والی پرواز کے لیے ٹیک آف سے قبل شراب کی تیزبو آنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔ یہ فلائٹ اے آئی 186 وینکوور سے ویانا کے راستے دہلی کے لیے پرواز کرنے والی تھی۔ یہ الٹرا لانگ ہال فلائٹ 4 پائلٹوں کی ٹیم کے ذریعہ پرواز کرنے والی تھی۔ یہ واقعہ 23 دسمبر 2025 کو پیش آیا۔ حالانکہ بوئنگ 777 طیارے کے اس پائلٹ کو ٹیک آف سے عین قبل ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا جب کینیڈین افسران نے اسے بریتھ اینالائزر(بی اے) ٹیسٹ میں ناکام پایا۔
رپورٹس کے مطابق وینکوورایئرپورٹ کے ڈیوٹی فری اسٹور پرعملے کے ایک رکن نے یا توغلطی سے پائلٹ کو شراب کی چسکی لیتے ہوئے دیکھ لیا جو تہوار کے موسم میں چکھنے کے لیے پیش کی جا رہی تھی، یا پھرشراب خریدتے وقت اس کے منھ سے شراب کی بو محسوس کی۔ اسی بنیاد پر معاملے کی اطلاع کینیڈین افسران کو دی گئی۔
’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد مقامی افسران نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور یہ تصدیق کی کہ متعلقہ شخص اسی فلائٹ کے کاک پٹ عملے کا حصہ تھا۔ اس کے بعد اسے ایئر انڈیا کے طیارے تک ٹریس کیا گیا۔ موقع پر کیے گئے بریتھ اینالائزر ٹیسٹ میں پائلٹ فیل ہوگیا جس کے بعد اسے مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
مسافروں کے لیے راحت کی بات یہ رہی کہ ایئر انڈیا نے تیزی سے بیک اپ پائلٹ کا انتظام کرلیا۔ 4 پائلٹوں (دو سیٹ ہرایک میں ایک کیپٹن اورایک کو-پائلٹ) کے ساتھ چلائی جانے والی اس الٹرا لانگ ہال پرواز کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے روانہ ہونا تھا۔ جو تقریباً 2 گھنٹے کی تاخیر سے پرواز کرسکی۔ طیارہ بحفاظت ویانا میں اترا، جہاں سے عملے کے دوسرے سیٹ نے دہلی کے لیے پرواز کی کمان سنبھالی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق ایئر انڈیا نے اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔ پائلٹ کو کچھ دن بعد دہلی لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس پورے واقعہ کی رپورٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کو بھیج دی گئی ہے، جو اپنی سطح پرتحقیقات کر رہا ہے۔
اس دوران ایک سرکاری بیان میں ایئر انڈیا نے کہا کہ 23 دسمبر 2025 کو وینکوور سے دہلی جانے والی فلائٹ اے آئی۔ 186 کو آخری لمحات میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کاک پٹ عملے کے ایک رکن کو ٹیک آف سے پہلے اتارنا پڑا تھا۔ کینیڈا کے حکام نے پائلٹ کی فٹنس کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد اسے مزید جانچ کے لیے لے جایا گیا۔ سیکورٹی پروٹوکول کے تحت متبادل پائلٹ کو تعینات کیا گیا۔