بانکی پور میں بی جے پی کی شکست
بہار کے بانکی پوراسمبلی حلقہکے ضمنی الیکشن میں بی جے پی کی شکست پر بحث جاری ہے۔ یہ سیٹ بی جے پی کے نومنتخب صدر نتن نوین کے استعفے سے خالی ہوئی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ یہاں سے بی جے پی کے ٹکٹ پرمسلسل پانچ بار چناؤ جیتے۔ضمنی چناؤمیں ایسا کیا ہوا کہ بی جے پی امیدوار ایک نئی نویلی پارٹی کے امیدوار سے چناؤ ہارگیا۔ سیاسی حلقوں میں اس شکست کو جین زی تحریک کاپہلا نتیجہ قرار دیاجارہا ہے، جس نے حال ہی میں مودی سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونا پڑا۔ اب تک مودی سرکار خود کو ناقابل شکست قرار دیتی تھی مگر طلبہ تحریک نے اس کی شکست کا دروازہ کھول دیا ہے اور اسے پچھلے بارہ سال کے اقتدار میں پہلی بار یہ محسوس ہوا ہے کہ عوامی طاقت کے سامنے بڑی سے بڑی اور مضبو ط سے مضبوط طاقت بھی ڈھیر ہوجاتی ہے۔
ضمنی الیکشن میں عام طورپر حکمراں پارٹی ہی کامیابی کا پرچم لہراتی ہے، لیکن بی جے پی کے اقتدار والی تین ریاستوں بہار، مدھیہ پردیش اور گجرات کی تین سیٹوں کے حالیہ ضمنی چناؤ میں بی جے پی دوسیٹوں پر چناؤ ہارگئی ہے۔بی جے پی کی سب سے بڑی شکست بہار کے بانکی پور حلقہ میں ہوئی ہے کیونکہ یہ سیٹ بی جے پی کے نومنتخب صدر نتن نوین کی تھی اور ان کے راجیہ سبھا ممبر چنے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سیٹ پر پچھلے تیس سال سے بی جے پی قبضہ تھا۔ خود نتن نوین نے یہاں سے پانچ بار چناؤ جیتا، لیکن حالیہ ضمنی چناؤ میں بی جے پی کی شکست کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود نتن نوین کے وارڈ میں بھی بی جے پی کوووٹ نہیں ملے اور انھیں اپنے روایتی ووٹروں کو مطمئن کرنے کے لیے ویڈیو پیغام جاری کرنا پڑا۔
عام خیال یہ ہے کہ طلبہ تحریک سے متاثر نوجوانوں نیبانکی پور میں بی جے پی کو ہرانے کا کام کیا ہے، لیکن اس الیکشن میں جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور کی محنت اور انتخابی مینجمنٹ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ظاہر ہے وہ عرصے سے انتخابی منیجر کا جو کردار نظریاتی طورپر ادا کررہے تھے، اسے یہاں انھوں نے عملی میدان میں آزمایا اور سرخرو ہوکر گزرے۔ حالانکہ نو مہینے قبل ہوئے اسمبلی انتخابات میں جن سوراج پارٹی کے تمام امیدوراوں کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی، لیکن بانکی پور سیٹ پر بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد ان کی سیاسی اہمیت میں یکلخت اضافہ ہوگیا ہے اور تمام چینلوں کا رخ ان ہی کی طرف ہے۔بانکی پور ضمنی چناؤ کا نتیجہ جہاں ایک طرف بی جے پی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے تو وہیں دوسری طرف راشٹریہ جنتا دل کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ یہاں پچھلے اسمبلی چناؤ میں راشٹریہ جنتا دل کی جس خاتون امیدوار کو 45/ہزار ووٹ ملے تھے، وہ ضمنی چناؤ میں محض 15/ہزار ووٹوں پر سمٹ گئی۔ پرشانت کشور نے کامیابی حاصل کرنے کے بعد بہار کے جن تین اہم موضوعات کو سب سے زیادہ اجاگر کیا ہے۔ ان میں تعلیم، روزگار اورنقل مکانی شامل ہیں۔ ان کا سب سے بڑا نشانہ بہار کے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری ہیں جنھیں وہ ان کے داغی پس منظر کی وجہ سے عہدے سے ہٹوانا چاہتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طلبہ تحریک کے دباؤ میں وزیرتعلیم کے استعفے کے بعد بی جے پی کو دوسرا بڑا جھٹکا بانکی پور میں لگا ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی نے ایک کمزور امیدوارکو کس حکمت عملی کے تحت میدان میں اتارا تھا، یہ ابھی واضح نہیں ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہاں بی جے پی کی شکست فاش نے کئی سوال کھڑے کردئیے ہیں۔ کامیابی کا پرچم بلند کرنے والے پرشانت کشور کا کہنا ہے کہ یہ دراصل بی جے پی کے غرور کی شکست ہے کیونکہ ان کے کسی لیڈر نے کہا تھا کہ’’اگر ہم بانکی پور سے کسی کتے بلی کو بھی کھڑا کردیں گے تو وہ چناؤ جیت جائے گا۔“حالانکہ بی جے پی لیڈر روی شنکر پرشاد نے اس بیان کی تردیدکی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پرشانت کشور کا روئے سخن بی جے پی کی طرف ہے اور وہ باربار کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی نے سمراٹ چودھری جیسے داغدار شخص کو وزیراعلیٰ بناکر بہارکے بارہ کروڑ عوام کی توہین کی ہے۔ اگر انھیں کشواہا سماج سے ہی کسی کو وزیراعلیٰ بنانا تھا تو اس سماج میں پڑھے لکھے اور معقول لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ پرشانت کشور کا الزام ہے کہ ’’سمراٹ چودھری پر قتل کے الزام میں جیل بھی جاچکے ہیں۔ جیل سے انھوں نے یہ جھوٹا حلف نامہ داخل کرکے رہائی حاصل کی تھی کہ ان کی عمر15برس ہے اور وہ نابالغ ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تعلیمی لیاقت ساتویں کلاس بھی نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے انتخابی حلف نامے میں غلط بیانی کی ہے اور اس کی کوئی چھان بین نہیں کی گئی۔ کیا بہار کے لوگ اتنے گئے گزرے ہیں کہ ان پر وزیراعلیٰ کے طور پر ایسا شخص مسلط کیا جائے۔
پرشانت کشور کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنا کیرئیر چناؤ منیجر کے طورپر شروع کیا تھا۔2012میں وزیراعظم نریندر مودی جس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تبھی پرشانت کشور ان سے وابستہ ہوگئے تھے۔ انھوں نے2014 میں نرنیدرمودی کو وزیراعظم بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ”ہر کسی کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے پہنچنے“کا شوشہ بھی ان ہی کے ذہن کی تخلیق تھی۔ اس کے علاوہ ایک کروڑ ملازمتیں دینے کی بات بھی انھوں نے ہی ایجاد کی تھی۔ بعد کو جب بی جے پی الیکشن جیت گئی اور ہر ووٹر نے پندرہ لاکھ روپے طلب کئے تو اسے ایک انتخابی جملہ قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔”چائے پر چرچا‘‘بھی ان ہی کے ذہن کی اپج تھی۔
پچھلے دنوں لوگوں کے کان اس وقت کھڑے ہوئے تھے جب بہار کے رخصت پذیر وزیراعلیٰ نتیش کمار نے میڈیا کیمرے کے روبرو یہ کہا تھا کہ’’امت شاہ ان سے دوبار کہہ چکے ہیں کہ پرشانت کشور کو اپنی پارٹی میں شامل کرلیں۔“پرشانت کشور اب تک مودی کے علاوہ ممتا بنرجی، نتیش کمار، اسٹالن، اروندکجریوال سمیت کوئی ایک درجن بڑے لیڈروں کی انتخابی حکمت عملی ترتیب دے چکے ہیں اور انھیں ایک کامیاب سیاسی منیجر تصور کیا جاتا ہے۔ ہم ذاتی طورپر ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ ہاں ایک بار ان سے تفصیلی ملاقات ضرور ہوئی ہے اور وہ بھی ایک انگریزی صحافی دوست کے توسط سے۔ یہ کئی برس پرانا قصہ ہے۔ مذکورہ صحافی دوست کا ایک روز فون آیا کہ پرشانت کشور اردو کے کچھ سرکردہ صحافیوں سے تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں، کیا آپ اس کا بندوبست کرسکتے ہیں؟ میں نے ہامی بھرلی اور دوروزبعد چارپانچ سینئر اردو صحافیوں کے ساتھ پرشانت کشور کی یہ ملاقات نئی دہلی کے انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں ہوئی جو تقریباً دوگھنٹے چل کر لنچ پر ختم ہوگئی۔ اس دوران پرشانت کشور سے کئی سوال کئے گئے جن کے انھوں نے بہت محتاط ہوکر جواب دئیے۔ البتہ یہ اندازہ ضرور ہوا کہ ان کا غالب رجحا ن دائیں بازو کی طرف ہے۔ بعد کو یہ بھی معلوم ہوا کہ انھوں نے اب تک جن وزرائے اعلیٰ کی سیاسی حکمت عملی ترتیب دی ہے، انھیں یہ مشورہ ضرور دیا ہے کہ موجودہ ماحول میں مسلمانوں سے فاصلہ بناکر رکھنا ضروری ہے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ بانکی پورہ اسمبلی حلقہ کے بارہ فیصد مسلمانوں میں سے کتنے لوگوں نے انھیں ووٹ دیا ہے، لیکن اتنا ضرورہے کہ انھوں نے کبھی خود کو مسلمانوں سے منسلک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ پچھلے دنوں انھوں نے یہ ضرور کہا تھا کہ ملک کی آدھی ہندو آبادی مسلمانوں کے ساتھ مل جل کررہنا چاہتی ہے لہٰذا مسلمان ان کے ساتھ رشتے خوشگوار بنائیں۔ان کا یہ بیان ہمارے دل کی آواز تھی اور ہم نے بھی اس کی تائید کی تھی۔اب جبکہ بانکی پور سیٹ جیت کر وہ بہار کی سیاست میں اہم مقام حاصل کرچکے ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کی سیاست کو مضبوط کریں گے یا پھر اپنی اصل سیاست سے ہی سروکار رکھیں گے۔انھوں نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ”اگر بی جے پی ان کے مطالبات منظور کرلیتی ہے تو وہ عوام سے بی جے پی کو ووٹ دینے کے لیے کہیں گے۔“