Jadid Khabar

طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

Thumb

نتائے رائے چودھری بنگلہ دیش کی نئی حکومت میں شامل ہونے والے اکلوتے ہندو وزیر ہیں۔انھیں  پچاس رکنی کابینہ میں مرکزی وزیربرائے ثقافت بنایا گیا ہے۔بنگلہ دیش جسے عرف عام میں ایک مسلم ملک کہاجاتا ہے، وہاں کی حکومت میں کسی ہندو وزیرکو شامل کرنا اس لیے معنی خیز ہے کہ ہندوستان جو ایک سیکولر ملک کہلاتا ہے وہاں اس وقت مرکزی کابینہ میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔حالانکہ ہندوستان میں مسلم آبادی 17/فیصد سے زائد ہے جبکہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی تعداد7/فیصد بھی نہیں ہے۔ اپنی وزارت کا کام کاج سنبھالنے کے بعد نتائے رائے چودھری نے کہا ہے ”بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے حقوق برابر ہیں، کیونکہ دونوں بنگلہ دیش کے شہری ہیں۔“ادھر نومنتخب وزیراعظم طارق رحمن کا کہنا  ہے کہ ”چاہے کوئی مسلمان ہو، ہندو ہو، بودھ ہویا عیسائی، کسی بھی پارٹی سے وابستہ ہو، کسی بھی مذہب یا ذات کا ہو،یہ ملک سبھی کا ہے۔ اس ملک کے ہر شہری کے پاس مساوی حقوق  ہیں۔ یہاں کسی سیاسی دباؤ کا نہیں بلکہ قانون کا راج چلے گا۔“
 ساٹھ سالہ  طارق رحمن بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم بنے ہیں۔ ان کی پارٹی’بی این پی‘ (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی)بیس سال بعد اقتدار میں آئی ہے۔17/سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد طارق رحمن دوماہ پہلے ہی ڈھاکہ پہنچے تھے۔ انھیں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ وہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے اور سیاسی وارث ہیں۔ 2001سے2006 کے دوران بنگلہ دیش میں طارق رحمن کا دبدبہ تھا۔ وہ خالدہ ضیاء حکومت میں کسی عہدے پر نہ ہونے کے باوجود سب سے طاقتور شخص تھے۔ 2007میں عبوری حکومت نے انھیں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا اور وہاں دی گئی اذیتوں کے نتیجے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ حالت اتنی دگرگوں تھی کہ انھیں اسٹریچر پر ڈال کر عدالت میں پیش کرنا پڑا۔ اس کے بعد انھیں علاج کے لیے ملک چھوڑنے کی اجازت ملی۔ پھر وہ 17/ سال برطانیہ میں رہے، جہاں سے دوماہ قبل ہی وہ بنگلہ دیش واپس آئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انھیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے کسی جدوجہدسے نہیں گزرنا پڑا اور وہ آسانی سے الیکشن جیت کر وزیراعظم بن گئے۔ انھوں نے اپنی پچاس رکنی کابینہ تشکیل دیتے وقت بلاتفریق مذہب وملت اپنے ملک کے تمام باشندوں کا خیال رکھا۔
 خاص بات یہ ہے کہ اس کابینہ میں ایک ہندو نتائی رائے چودھری اورایک بودھ دپن دیوان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح اس پروپیگنڈے کی ہوا نکل گئی ہے کہ بنگلہ دیش شدت پسندوں کی گرفت میں ہے اور وہاں ہندوؤں کا جینا حرام ہے۔ حالیہ انتخابات میں بی این پی نے جماعت اسلامی کو شکست دے کر اکثریت حاصل کی ہے۔اسے209 نشستیں حاصل ہوئیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  بنگلہ دیش کے 36/ہندواکثریتی حلقوں میں سے32پر بی این پی نے کامیابی کا پرچم لہرایا ہے اور اس کے پانچ ہندو امیدواروں میں سے تین نے کامیابی حاصل کی۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے سیکولر جمہوری ملک ہندوستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو بڑی مایوس کن صورتحال ابھرتی ہے۔اس وقت مودی کابینہ میں کوئی ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہے،جبکہ ہندوستان میں مسلم آبادی 17/فیصد سے زیادہ ہیں۔مگر بنگلہ دیش میں جہاں ہندوآبادی 7 فیصد کے آس پاس ہے، اس برادری کے ایک وزیر کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ مودی کابینہ میں ملک کی دوسری بڑی اکثریت کی نمائندگی صفر ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت انھیں کوئی اہمیت ہی نہیں دیتی۔2024کے عام انتخابات میں بی جے پی نے کسی مسلم امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مسلمان چونکہ بی جے پی کے مسلم امیدوار کو بھی ووٹ نہیں دیتے، اس لیے انھیں ٹکٹ دینا فضول ہے۔ پہلے بی جے پی سرکاروں میں شاہنواز حسین اور مختارعباس نقوی جیسے نمائشی وزیروں کو شامل کیا جاتا تھا مگر مودی سرکار میں انھیں بھی برف میں لگادیا گیا ہے اور فی الحال حکومت میں مسلمانوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ اس پر مزید اظہار خیال سے پہلے آئیے بنگلہ دیش کی صورتحال پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمن کی حلف برداری تقریب میں شرکت کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کو مدعو کیا گیا تھا، لیکن انھوں نے اپنی جگہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو بھیجا۔ اوم برلا نے بنگلہ طارق رحمن کو وزیراعظم مودی کی طرف سے بھیجا گیا وہ دعوت نامہ سونپا،جس میں انھیں ہندوستان کے دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ طارق رحمن نے اسے منظور کرلیا ہے۔ہندوستان بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی رشتے مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔ ان رشتوں میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جبکہ وہاں محمدیونس کی عبوری سرکار تھی کافی تلخی پیدا ہوئی ہے اور اس کا سب سے بڑا سبب بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے حملے ہیں۔ ہندوستان نے اس پر کئی بار احتجاج بھی درج کرایا اور بنگلہ دیشی سفیر کووزارت خارجہ میں طلب کرکے کھری کھوٹی بھی سنائی۔ یہ بات الگ ہے کہ جب کبھی ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کوئی پڑوسی یاعرب ملک احتجاج کرتا ہے تو ہندوستان اسے اپنا اندرونی معاملہ کہہ کراسے  مسترد کردیتا ہے۔ واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کی اقتدار سے محرومی کے بعد بنگلہ دیش کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں جو سرد مہری پیدا ہوئی تھی اس کا سبب یہ تھا کہ ہندوستان نے اپنی تمام امیدیں معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے باندھ رکھی تھیں اور جب وہ طلباء کی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے معزول ہوکر جلاوطن ہوئیں تو انھوں نے سیاسی پناہ بھی یہیں حاصل کی اور وہ آج تک دہلی میں مقیم ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بی این پی نے جماعت اسلامی کو شکست دے کر اقتدار حاصل کیا ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے بنگلہ دیشی عوام شدت پسندی کے مخالف ہیں جبکہ اس کے برعکس ہندوستانی عوام کی نفسیات کا جائزہ لیا جائے تو وہ ہندوانتہاپسندی کی سب سے بڑی علمبردار بی جے پی کو اپنا مشکل کشا تصور کرتے ہیں جس نے اپنے بارہ سال کے اقتدار کے دوران ایک جمہوری ملک میں ’ہندو حکومت‘ قائم کرلی ہے اور مسلمانوں کو ہندتوا میں ضم کرنا چاہتی ہے۔ آرایس ایس جس کے ہاتھوں میں اس حکومت کی اصل کمان ہے، اس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے تازہ بیان میں بھارت کے مسلمانوں کو ہندو قرار دے کر ان کی گھر واپسی کرانے کی بات کہی ہے۔ اس اعتبار سے اگر آپ بنگلہ دیش اور ہندوستان کا موازنہ کریں تو بنگلہ دیش کی حکومت اپنی اقلیتوں کی زیادہ خیرخواہ ہے اور بطور شہری کے عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔نہ تو انھیں مسلمان بنانے کی بات کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کی ثقافت کو ختم کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
 قابل ذکر بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات بہت پرسکون انداز میں منعقد ہوئے اور وہاں کوئی بدامنی پیدا نہیں ہوئی۔بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ”وہاں تشدد کی صورتحال کے باوجود صاف وشفاف الیکشن منعقد ہوئے،جو بڑے اطمینان کی بات ہے۔اس کے برعکس مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر کے عمل کے دوران ووٹروں میں زبردست بے چینی ہے کیونکہ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ان کے نام کاٹے جارہے ہیں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا ہٹلر کمیشن بن گیا ہے۔“ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بنگلہ دیش کے انتخابات جن حالات میں منعقد ہوئے ان میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ انتخابات پرامن طریقے پر منعقد ہوں گے، لیکن حیرت انگیزطورپر  ان انتخابات میں کسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی اور نہ ہی کسی ووٹر نے یہ شکایت درج کرائی کہ اسے ووٹ دینے سے روکا گیا۔ یہاں تک کہ وہ ہندو بھی بڑے اطمینان سے ووٹ دے کر آئے جنھیں وہاں خطرے میں بتایا جارہا تھا اور ہندوستان کی انتہاپسند تنظیمیں ان کا وجود خطرے میں بتا رہی تھیں۔ جبکہ ہندوستان حال یہ ہے کہ ایس آئی آر کے دوران لاکھوں مسلمانوں کے نام جعل سازی کرکے کاٹے جارہے ہیں۔ ہر بوتھ پر بی جے پی کے ورکروں نے مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے بڑی تعداد میں فارم نمبر سات پہلے سے ہی بھرکر رکھے ہوئے ہیں۔ کئی مقامات پر اس جعل سازی کو پکڑنے کے باوجود الیکشن کمیشن نے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔اب آپ یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ صحیح معنوں میں جمہوریت اوراقلیتیں کہاں محفوظ ہیں؟ہندوستان میں یا بنگلہ دیش میں۔ہندوستان میں سرکارکی سرپرستی اور امداد سے مسلم مخالف ماحول پیدا کیا جارہا ہے اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو برابری کے حقوق دئیے جارہے ہیں۔