Jadid Khabar

یوپی:سردی کا ستم بدستور جاری

Thumb


لکھنؤ:13جنوری(یواین آئی)نشتر کی طرح چبھنے والی سرد ہواؤں سے پورا اترپردیش ٹھٹھر رہا ہے ۔ ریاست کے زیادہ تر علاقوں میں صبح 10بجے تک پارہ 10تا 13ڈگری سلسیس کے درمیان ریکارڈ کیا گیا وہیں گھنے کہرے اور گلن کے درمیان ہوا کی کوالٹی خطرناک حد تک جاپہنچی مظفر نگر،آگرہ،میرٹھ،بلیا،لکھنؤ،پریاگ راج، بارہ بنکی،کانپور اور بریلی سمیت تقریبا پورے اترپردیش میں گلن اور شیت لہر کی وجہ سے پہاڑی علاقوں جیسا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ کہرے اور دھندھ ی وجہ سے سڑک آمدورفت پوری طرح سے متاثر ہوا ہے وہیں ریل اور ہوائی آمدورفت پر بھی موسم نے خاصا اثر ڈالا ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق ٹھنڈ کے تیوروں میں فی الحال نرمی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ اگلے 24گھنٹے میں ریاست میں موسم عام طور پر خشک رہنے کے آثار ہیں۔ اس دوران مغرب کے کچھ مقامات پر کولڈ ڈے کے حالات بن سکتے ہیں۔ زیادہ تر علاقوں میں کم از کم درجہ حرارت 6ڈگری سلسیس اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 21تا23ڈگری سلسیس رہنے کاامکان ہے ۔عام طور پر نوبجے سے کھلنے والے بازاروں میں سردی کی وجہ سے دس بجے کے بعد بھی سناٹا چھایا رہا وہیں سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر میں حاضری پر بھی کافی اثر دکھا۔ ملازمین سردی کی وجہ سے دفاتر میں 10بجے سے 15-20منٹ کی تاخیر سے ہی پہنچے ۔ٹھٹھرن کی وجہ سے سڑکوں پر جگہ جگہ الاؤ دیکھا جارہا ہے وہیں لوگوں کے ساتھ مویشی بھی ٹھنڈ دور کرتے دکھائی دئیے ۔صبح ساڑھے دس بجے تک کئی مقامات پر سورج کی کرنوں نے زمین پر دستک نہیں دیا تھا۔ جماعت 9تا 12تک کے اسکولوں کے کھلنے کے باوجود آج بھی طلبہ کی تعداد نہایت ہی محدود رہی۔محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے زیادہ تر علاقوں میں ہوا کی کوالٹی (اے کیو آئی)160سے اوپر ریکارڈ کیا گیا جو سانس اور امراض قلب کے لئے کافی نقصاندہ مانا گیا ہے ۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ خاص کر بزرگوں اور مریض ٹھنڈ میں باہر نکلنے سے پرہیز کریں اور اگر دھوپ بھی کھانی ہے تو سراور پاؤں کو گرم کپڑوں سے ڈھک کر رکھیں۔کورونا انفکشن کی وجہ سے سڑک پر نکلنے سے پہلے ماسک کا استعمال ضرور کریں۔بند کمرے میں انگیٹھی اور دیگر جلنے والی اشیاء کا استعمال قطعی نہ کریں ان سے نکلنے والی گیس صحت کے لئے مضر ہوسکتی ہے ۔

 

Ads