بنگلہ دیش میں 2 برس قبل طلباء نے تحریک چلا کر شیخ حسینہ کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔ اس وقت ملک کی معیشت اچھی تھی اور لوگوں کے پاس روزگار تھے۔ اس کے بعد طلباء نے ایک نیا بنگلہ دیش بنانے کا عزم کیا اور شدید تشدد، لوٹ مار اور افرا تفری پیدا کر کے وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ پھر محمد یونس اقتدار میں آئے، انہوں نے ملک کے عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے اور ان کے بعد ملک میں طارق رحمان کی حکومت قائم ہوئی۔ لیکن دو ڈھائی برسوں کے دوران بنگلہ دیش کی معیشت کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ 10 لاکھ سے زیادہ ملبوسات کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور اب سڑکوں پر اتر کر پرتشدد مظاہرے کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش میں 529 ملبوسات کی فیکٹریاں بند ہیں اور 10 لاکھ سے زیادہ مزدور غیر مطمئن ہیں۔ ’بنگلہ دیش گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن‘ نے یہ اطلاع دی ہے۔
سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں مزدور اتر آئے ہیں اور تنخواہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے پُرتشدد ہو گئے ہیں۔ ڈھاکہ، غازی پور اور اشولیہ جیسے بڑے صنعتی مراکز میں پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔
ملک کی شرح مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مزدور اپنی ماہانہ تنخواہ 12500 ٹکا سے بڑھا کر 30 ہزار ٹکا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت نے جلد بازی میں ایک ’پے بورڈ‘ تشکیل دیا ہے۔
ملبوسات فیکٹریاں بنگلہ دیش کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ملک کی کل برآمدات میں 80 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے بنگلہ دیش کی ترقی کا جو اندازہ لگایا ہے، وہ گزشتہ 40 برسوں میں سب سے کم ہے۔ ملک کی شرح ترقی کا اندازہ 2.2 فیصد سے 3.6 فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے کئی صنعتی علاقوں میں 500 سے زیادہ ریڈی میڈ گارمنٹس فیکٹریاں بند ہیں۔ سینکڑوں دیگر فیکٹریوں کے ہزاروں مزدور سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ڈھاکہ، غازی پور اور ساور علاقوں میں پولیس اور مزدوروں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ سڑکوں پر آتش زنی کی جا رہی ہے۔ پُرتشدد جھڑپوں کی وجہ سے اہم شاہراہوں پر آمد و رفت بند ہو گئی ہے اور فیکٹریوں کا کام کاج ٹھپ ہو گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے مزدوروں نے پولیس چوکیوں، پولیس کی گاڑیوں، محکمۂ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں، جوٹ کے ایک گودام اور ایک بینک کو آگ لگا دی ہے۔
غازی پور اور میمن سنگھ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں، جہاں 276 فیکٹریاں بند کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ساور، اشولیا اور جرابو میں 185 فیکٹریوں کا کام کاج روک دیا گیا ہے۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے دائرۂ اختیار میں آنے والے علاقوں میں بھی 68 فیکٹریاں بند ہیں۔ طارق رحمان کی حکومت نے اتوار کے روز گارمنٹس ملازمین کے لیے 6 رکنی ’پے بورڈ‘ تشکیل دیا ہے، لیکن احتجاج اب بھی جاری ہے۔ مظاہرین کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس لاٹھی چارج کر رہی ہے، ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے جا رہے ہیں، پانی کی بوچھاریں ماری جا رہی ہیں اور پولیس نے ساؤنڈ گرینیڈ بھی پھینکے ہیں۔ قانونی نظم و نسق کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے متاثرہ صنعتی علاقوں میں ’بارڈر گارڈ بنگلہ دیش‘ کی 5 پلاٹون تعینات کی گئی ہیں۔