نئی دہلی، 21 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس نے 'پی ایم-دکش' یوجنا کے نافذ نہ ہونے اور مختص بجٹ خرچ نہ کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پسماندہ طبقات کو ہنر کی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی اس اسکیم کو مودی حکومت نے محض کاغذوں تک محدود کر دیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کے روز کہا کہ دو سال سے پی ایم-دکش یوجنا کے نافذ نہ ہونے اور گزشتہ برسوں کے لیے مختص بجٹ خرچ نہ کیے جانے سے مودی حکومت کی ایک اور ناکامی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ حکومت کا کام اب صرف بڑے بڑے اشتہار دینا، سرخیوں میں رہنا اور عملی سطح پر نتائج دینے میں ناکام رہنا رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس اسکیم کا مقصد پسماندہ طبقات کو ہنر مند بنانا، ٹریننگ دینا اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا، اسے حکومت نے کاغذی کارروائی تک سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، "جو حکومت وزیرِ اعظم کے نام والی 'دکش' اسکیم کو بھی صلاحیت اور کارکردگی کے ساتھ نافذ نہیں کر سکتی، اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔" انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کی نظروں میں ان کی حکومت کا اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اس حکومت کی "ایکسپائری ڈیٹ قریب آ چکی ہے۔"
مسٹر رمیش نے سوال کیا کہ مودی حکومت کب تک جین زی کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا حکومت درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، معاشی طور پر پسماندہ طبقات (ای ڈبلیو ایس) اور خانہ بدوش نیز نیم خانہ بدوش قبائل سے سال 2024 کے عام انتخابات میں 240 نشستوں پر سمٹ جانے کا بدلہ لے رہی ہے۔