Jadid Khabar

دسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کا ہدف: شاہ

Thumb

نئی دہلی، 21 اکتوبر (یو این آئی) مرکزی وزیرِ داخلہ امت  شاہ نے کہا ہے کہ آنے والی نسلوں کو نشے کی لت سے محفوظ رکھنے اور ملک دشمن سرگرمیوں پر لگام لگانے کے لیے حکومت نے 31 دسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت  سے مکمل طور پر آزاد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سال 2026 کے بقیہ ایام اور سال 2027، 2028 نیز 2029 کے دوران ملک بھر کی پولیس فورسز کو باہم مل کر منشیات کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی۔ مسٹر شاہ نے بدھ کے روز یہاں 'پولیس یادگاری دن ' کے موقع پر قومی پولیس یادگار پر شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد یہ باتیں کہیں۔ اس موقع پر انہوں نے نشے کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک گیر موٹر سائیکل ریلی کو بھی ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ نشے کی لعنت آنے والی نسلوں کو کھوکھلا اور کمزور کرتی ہے، معیشت پر بوجھ بنتی ہے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کو مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ملک بھر کی پولیس فورسز سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں تیار کردہ 'نشہ مکت بھارت' کی اسکیم کو زمینی سطح پر نافذ کرنے اور نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی اپیل کی۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سال 2026 ہندوستانی پولیس کے لیے انتہائی اہم اور تاریخی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 31 مارچ 2026 کو ملک کو کئی دہائیوں پرانی نکسل ازم کی لعنت سے نجات مل گئی۔ سال 1981 سے مارچ 2026 کے درمیان نکسل ازم کی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے 3,600 سے زائد جوان شہید ہوئے اور تقریباً 13,700 بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک اگر ترقی کی راہ پر گامزن ہے، تو اس کی بنیادوں میں شہید جوانوں کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر، شمال مشرق اور نکسل سے متاثرہ علاقوں میں اب امن اور ترقی کا خوشگوار ماحول قائم ہو چکا ہے۔ کشمیر میں دہشت گردی پر قابو پانے میں بڑی کامیابی ملی ہے، جبکہ مختلف معاہدوں کے بعد شمال مشرق میں بھی پائیدار امن کا راستہ کھلا ہے۔ نکسل ازم کے خاتمے میں پولیس اور مرکزی نیم فوجی دستوں (سی اے پی ایف) کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے بالخصوص سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، کوبرا بٹالین اور چھتیس گڑھ پولیس کی بے مثال بہادری کا خصوصی ذکر کیا۔

مسٹر شاہ نے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں اور فرض شناسی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی خدمت ملک کی مشکل ترین خدمات میں سے ایک ہے۔ جب عام شہری اپنے اہل خانہ کے ساتھ رکھشا بندھن، ہولی، دیوالی اور عید جیسے تہوار منا رہے ہوتے ہیں، تب پولیس اہلکار داخلی سلامتی، ٹریفک اور عوام کے تحفظ کی ڈیوٹی میں مصروف رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندرونی امن و امان اور سلامتی میں پولیس کا کردار سب سے اہم ہے۔

پولیس یادگاری دن  کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ 21 اکتوبر 1959 کو لداخ  کے 'ہاٹ اسپرنگس' کے علاقے میں چینی فوج کے حملے کا جرأت مندانہ مقابلہ کرتے ہوئے سی آر پی ایف کے 10 جوان شہید ہوئے تھے۔ انہی بہادر جوانوں کی یاد میں ہر سال 21 اکتوبر کو پولیس یادگاری دن  منایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2018 میں وزیرِ اعظم مودی نے قومی پولیس یادگار کا افتتاح کیا تھا، تاکہ پولیس کی آنے والی نسلیں شہداء کی زندگی سے تحریک حاصل کریں۔ اس یادگار پر فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

نشے کے خلاف بیداری پھیلانے والی اس موٹر سائیکل ریلی میں مختلف ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مرکزی مسلح پولیس فورسز اور مرکزی پولیس تنظیموں کے تقریباً 90 سوار حصہ لے رہے ہیں۔ 'نشے کے خلاف جنگ' کے پیغام کے ساتھ نکالی جا رہی یہ ریلی ملک گیر مہم کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس میں شامل سوار گجرات کے ایکتا نگر پہنچ کر 'ایکتا پریڈ-2026' میں حصہ لیں گے۔