چنڈی گڑھ: پنجاب میں منشیات کے خلاف سرگرم کارکن پرویندر سنگھ جھوٹا کے قتل کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے سپرد کرنے کی درخواست پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔ مفاد عامہ کی عرضی میں مانسا میں درج مقدمے کی سی بی آئی سے تفتیش اور ہائی کورٹ سے اس کی نگرانی کی استدعا کی گئی ہے۔ اہل خانہ اور مقامی لوگوں کے غم و غصے کے بعد تھانہ سٹی ون کی خاتون انسپکٹر بینت کور کو معطل کر دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے ملزم کو میڈیکل اسٹور کا ڈرگ لائسنس اور مبینہ مجرمانہ پس منظر کے باوجود اسلحہ لائسنس دیے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔ عرضی میں پولیس کی جانب سے جھوٹا کی کال پر فوری کارروائی نہ کرنے، اسپتال منتقلی میں تاخیر، اہل خانہ اور گواہوں کے تحفظ اور ریاست میں امن و امان بحال کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔
عرضی کے مطابق 45 سالہ جھوٹا مانسا کا رہائشی اور سابق فری اسٹائل کبڈی کھلاڑی تھا۔ اس نے منشیات مخالف ٹاسک فورس بنائی اور میڈیکل اسٹوروں پر نشہ آور اشیا کی غیرقانونی فروخت کی ویڈیوز 63 ہزار فالوورز والے فیس بک صفحے پر پوسٹ کرتا تھا۔ جولائی 2023 میں اس نے بھٹنڈہ روڈ، مانسا پر اشونی کمار کے میڈیکل اسٹور سے ممنوعہ نشہ آور کیپسول فروخت ہونے کا الزام لگایا۔ اس شکایت پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج ہوا، جبکہ جھوٹا کے خلاف جوابی مقدمہ درج کیا گیا اور اسے حراست میں لیا گیا؛ وہ ستمبر 2023 میں رہا ہوا۔
عرضی کے مطابق 13 اکتوبر کو جھوٹا نے ملزم کے میڈیکل اسٹور سے ایک شخص کو نشہ آور کیپسول خرید کر نکلتے دیکھا۔ اس نے ویڈیو بنائی، سوال کیا اور پولیس کو فون کیا، لیکن پولیس موقع پر نہیں پہنچی۔ اسی دوران ملزم نے فائرنگ کی۔ جھوٹا کے 4 ساتھی کلوندر سنگھ، گوبند سنگھ، بلتج سنگھ اور ہیپی بھی زخمی ہوئے۔ مقتول کے والد کی شکایت کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھیوں نے دن دہاڑے ان کے بیٹے کا پیچھا کر کے گولی ماری۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے بعد پولیس تقریباً 20 سے 25 منٹ تک موقع پر نہیں پہنچی اور شدید زخمی جھوٹا کو فوراً اسپتال نہیں لے جایا گیا۔ بعد میں اسے سول اسپتال مانسا پہنچایا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔
میڈیکل اسٹور کے لائسنس پر سوال اٹھاتے ہوئے عرضی میں ایک پریس رپورٹ کا حوالہ ہے۔ رپورٹ میں مانسا کے ڈرگ انسپکٹر کے مطابق گزشتہ 4 برس میں دکان پر تقریباً دس چھاپے پڑے، تین بار لائسنس معطل ہوا اور تین مرتبہ نشہ آور اشیا برآمد ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے تحت کارروائی کے باوجود لائسنس منسوخ نہیں کیا گیا۔