سپریم کورٹ نے مذہب کی تبدیلی اور ذات پر مبنی ریزرویشن کے متعلق اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہندو سماجی نظام میں پسماندہ طبقہ یا درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو دوسرا مذہب اختیار کرنے کے بعد اسی بنیاد پر ریزرویشن کا فائدہ نہیں مل سکتا۔ عدالت کے مطابق ہندو ذات کے نظام کے تحت کسی شخص کی سماجی پسماندگی کی کی حالت دوسرے مذہب میں جانے کے بعد خود بخود منتقل نہیں ہوتی۔
سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم کو برقرار رکھا، جس میں تمل ناڈو حکومت کے مذہب تبدیل کر کے مسلمان بننے والے لوگوں کو ریزرویشن دینے کے فیصلے کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے آئینی اصولوں کی بنیاد پر اس معاملے میں داخل عرضی خارج کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف پہلے کسی پسماندہ طبقہ یا درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر دوسرے مذہب میں جانے کے بعد ریزرویشن کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ ہندو سماجی نظام میں ذات کی بنیاد پر سماجی پسماندگی اور دوسرا مذہب اختیار کرنے کے بعد ریزرویشن کے فائدے سے متعلق معاملے میں آیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس چندرشیکھر کی بنچ نے مذکورہ فیصلہ سنایا۔ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین (شیڈول کاسٹ) آرڈر، 1950 کے مطابق جو لوگ ہندو، بودھ یا سکھ نہیں ہیں انہیں درج فہرست ذات کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین (شیڈول کاسٹ) آرڈر کے پیراگراف 3 کے مطابق جو شخص ہندو، سکھ یا بودھ مذہب کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو مانتا ہے اسے درج فہرست ذات کا ممبر نہیں مانا جا سکتا۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی ایسے مذہب کو اختیار کر لیتا ہے جس کا ذکر اس حکم میں نہیں ہے تو وہ اپنی سابقہ ذات سے منسلک درج فہرست ذات کا درجہ کھو دیتا ہے۔ ساتھ ہی وہ آئین کی دفعہ 16(4) کے تحت پسماندہ طبقات کے لیے دستیاب خصوصی فوائد کا دعویٰ نہیں کر سکتا جو درج فہرست ذات کی رکنیت پر مبنی ہے۔