Jadid Khabar

پاکستان سے ہونے والی کسی بھی دہشت گردانہ حرکت کا اور زیادہ کرارا جواب دیا جائے گا: راج ناتھ

Thumb

نئی دہلی، 15 اکتوبر (یو این آئی)  وزیردفاع  راج ناتھ سنگھ نے دہشت گردی کو بالکل برداشت نہ کرنے کی حکومت کی پالیسی پر ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے ہونے والی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا ہندوستان اور زیادہ سخت جواب دے گا۔

مسٹر سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ایک نجی میڈیا ادارے کے پروگرام میں کہا کہ آپریشن سندور، بالاکوٹ فضائی حملے اور سرجیکل اسٹرائیک ہندوستان کی دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی علامت ہیں۔ ہندوستان اب صرف سفارتی مخالفت تک محدود نہیں ہے، بلکہ دہشت گردی کے سرچشمے تک پہنچ کر کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

 وزیردفاع نے کہا کہ ہندوستان کی ثقافت بات چیت، باہمی تعاون اور پرامن طریقے سے تنازعات کو سلجھانے میں یقین رکھتی ہے۔ لیکن امن کی اس پالیسی کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 کے بعد سے دہشت گردوں کی سرگرمی کی مدت گھٹ کر ایک سال سے بھی کم رہ گئی ہے اور سکیورٹی فورسز ہتھیار اٹھانے کے ایک سال کے اندر ہی انہیں ہلاک کر رہی ہیں۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ ملک میں امن برقرار رکھنے کے لیے طاقت اور صلاحیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، " ہندوستان امن چاہتا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر جنگ کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔ ملک کی خودمختاری، سالمیت اور قومی مفادات کا تحفظ کرنا حکومت کا ہدف ہے۔"

بدلتے ہوئے سکیورٹی حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب پروپیگنڈا، بدامنی پھیلانے، کام کاج میں خلل ڈالنے، فریب دینے اور تباہی جیسی پانچ طرح کی چنوتی سامنے آ رہی ہیں۔ دہشت گردی اب منظم گینگ تک محدود نہیں ہے۔ خودکش حملہ آور کے طور پر اکیلے حملہ کرنے والے اور پیشہ ورانہ طریقے سے کام کرنے والے دہشت گردوں سے نمٹنا بھی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے چیلنج بن گیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے مسافر طیارے کو حادثہ کا شکار کرنے کی مبینہ کوشش اور بڑے دہشت گردانہ حملے کو روکنے کے لیے اپنی جان خطرے  میں ڈالنے والے کی کیپٹن سمت مچھار کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہوشیار اور بہادر شہری بھی دہشت گردانہ سازش کو ناکام بنا سکتا ہے۔ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ بیدار شہریوں کی شراکت داری بھی ضروری ہے۔

دفاعی تیاریوں پر انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو روایتی فوجی طاقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور کم لاگت والے ہتھیاروں کا بھی استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے لیے درست نشانہ لگانے والے ہتھیار، ڈرون، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انسانی انٹیلی جنس کو ایک ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔

 وزیردفاع  نے کہا کہ پچھلے ساڑھے بارہ برسوں میں حکومت نے دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ملک میں خود کفیل اور مستقبل کے چیلنجوں  کے لیے تیار دفاعی صنعت بنانے پر زور دیا ہے۔ دفاعی شعبے میں اب 500 سے زائد کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ دفاعی خریداری میں ہندوستانی صنعتوں کو ترجیح دی جا رہی ہے اور فوج کی جدید کاری کے بجٹ کا 75 فیصد حصہ ہندوستانی صنعتوں سے خریداری کے لیے رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے آکاش میزائل سسٹم اور برہموس سمیت دیسی دفاعی نظام کی صلاحیت اور فوج کے بھروسے کو دکھایا ہے۔ دفاعی پیداوار سال 2014 کے 40 ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر 1.78 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئی ہے۔ وہیں، دفاعی برآمدات سال 2013-14 کے 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر 39 ہزار کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ہندوستان کے دفاعی پروڈکٹس قریب 100 ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔

مسٹر سنگھ نے بھروسہ جتایا کہ ہندوستان اس سال دو لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی پیداوار کا ہدف حاصل کرے گا۔ سال 2029 تک دفاعی پیداوار تین لاکھ کروڑ روپے اور دفاعی برآمدات 50 ہزار کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے اسٹارٹ اپس، چھوٹے صنعتوں اور نوجوان اختراع کار کو مواقع دیے جا رہے ہیں۔ مارچ 2026 تک آئیڈیکس  کے تحت 676 اسٹارٹ اپس اوراختراع کار جڑ چکے تھے اور 551 سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔ سال 2018 میں چند درجن دفاعی اسٹارٹ اپس تھے، جن کی تعداد اب بڑھ کر 2,000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

 وزیردفاع نے کہا کہ فوج میں استعمال ہونے والے 175 طرح کے گولہ بارود میں سے 159 کی پیداوار اب ملک میں ہی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں سرکاری کمپنیوں کے ساتھ نجی صنعتیں، 16 ہزار سے زیادہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے (ایم ایس ایم ای) اور انوویشن سینٹرز بھی تعاون کر رہے ہیں۔

مسٹر سنگھ نے یقین ظاہر کیا کہ آزادی کے 100 سال پورے ہونے تک ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا اور ٹیکنالوجی، معیشت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں دنیا کی قیادت کرے گا۔