نئی دہلی، 14 اکتوبر (یو این آئی) وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان ایسا ہند-بحرالکاہل خطہ چاہتا ہے جہاں چھوٹے بڑے تمام ممالک اپنے فیصلے خود کر سکیں، اپنے مفادات کی حفاظت کریں اور امن کے ساتھ ترقی کریں۔
انہوں نے ہندوستان اور آسیان ممالک سے بحری سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، سائبر خطرات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔ مسٹر سنگھ بدھ کے روز یہاں منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالیسز میں پہلے ہند۔آسیان ڈیفنس تھنک ٹینک فورم سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان اور آسیان کا مشترکہ مفاد امن، استحکام، خوشحالی اور کھلے و جامع ہند-بحرالکاہل خطے میں ہے۔ ہندوستان کی 'ایکٹ ایسٹ' پالیسی،ساگر اور مہاساگر کا تصور تعاون اور کثیر قطبی نظام کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ہند-بحرالکاہل پالیسی میں آسیان کی قیادت والے علاقائی پلیٹ فارمز کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے، سمندر میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، سائبر جرائم، سمندری قزاقی، انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری، ماحولیاتی آفات اور ضروری سپلائی چین پر خطرات بڑھ رہے ہیں۔ کوئی بھی ملک اکیلے ان چیلنجوں سے نہیں نمٹ سکتا۔ ممالک کو اختلافات پر وقت رہتے پرامن بات چیت کرنی چاہیے، بین الاقوامی قانون کا احترام کرنا چاہیے اور ایسا علاقائی ماحول بنانا چاہیے جہاں کسی ملک پر کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے کا دباؤ نہ ہو۔
مسٹر سنگھ نے ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان صدیوں پرانے تاریخی، ثقافتی، تجارتی اور نظریاتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی 'ایکٹ ایسٹ' پالیسی خطے کے ممالک کے ساتھ مساوی شراکت داری کا طویل مدتی عزم ہے۔ ہندوستان اور آسیان کے ہند-بحرالکاہل نقطہ نظر ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔ علاقائی پلیٹ فارمز کے درمیان مقابلہ پیدا کرنے کے بجائے تعاون کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بحر ہند اور جنوب مشرقی ایشیا کے سمندری خطے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور تجارت، توانائی، لوگوں اور ضروری سامان کی آمدورفت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کی سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے سمندری سرگرمیوں کی نگرانی، بحری افواج اور کوسٹ گارڈز کے درمیان ہم آہنگی اور سمندر کے نیچے کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ ضروری ہے۔
سال 2026 کو آسیان- ہندوستان سمندری تعاون کا سال قرار دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کو عملی اقدامات میں بدلنا چاہیے۔ اس کے تحت سمندری معلومات کے تبادلے، بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے تعاون اور ہنگامی صورتحال میں مشترکہ ردعمل کی صلاحیت بڑھانے پر کام ہونا چاہیے۔ سمندری قزاقی، اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری اور دیگر خطرات سے بین الاقوامی قانون کے مطابق نمٹنا ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی )، ڈرونز، سائبر صلاحیتیں اور خلائی نظام دفاعی شعبے میں تیزی سے اہم ہو رہے ہیں۔ حالیہ تنازعات نے دکھایا ہے کہ کم لاگت والے ڈرون بھی مہنگے دفاعی نظام کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس لیے عملی، کم خرچ اور ضرورت کے مطابق تبدیل کیے جا سکنے والے حل تیار کرنے ہوں گے۔
انہوں نے ہندوستان اور آسیان کے اختراع کاروں سے ڈرون مخالف نظام، سائبر دفاع، سمندری نگرانی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسے طے شدہ شعبوں میں مل کر کام کرنے کے امکانات تلاش کرنے کو کہا۔ اس کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبے، مشترکہ تجربات، نوجوان محققین کا تبادلہ اور مخصوص جدت طرازی کے چیلنجز شروع کیے جا سکتے ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان آسیان ممالک کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق گشتی جہازوں، راڈار، ایئر ڈیفنس سسٹم، ہیلی کاپٹر، ڈرون اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ 'آتم نربھر بھارت' کا مقصد گھریلو صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، لیکن خود کفالت کا مطلب الگ تھلگ رہنا نہیں ہے۔ اس سے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ آلات کی ڈیزائننگ، تیاری، دیکھ بھال اور بہتری کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مشترکہ ترقی و پیداوار، دیکھ بھال، مرمت و اوور ہال ، تربیت اور طویل مدتی تکنیکی معاونت کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طوفان، سیلاب، سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح اور خراب موسم بندرگاہوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں اور لوگوں کے روزگار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انسانی امداد اور ڈیزاسٹر ریلیف کو دفاعی بات چیت کا باقاعدہ حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ہندوستان اور آسیان ممالک اپنے تجربات کا تبادلہ کر کے، بہترین طریقوں سے سیکھ کر اور بحران سے پہلے ہم آہنگی مضبوط کر کے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حکومتوں کو بہترین تجزیے کے ساتھ ایسے نظریات بھی چاہئیں جنہیں عملی طور پر زمین پر نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس پلیٹ فارم کے لیے ہند-آسیان سمندری سلامتی، سائبر خطرات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور دفاعی صنعت کے تعاون پر ایک مشترکہ تحقیقی ایجنڈا تیار کرنے کی تجویز دی۔
انہوں نے نوجوان محققین سمیت ماہرین کے باقاعدہ تبادلے، فیلوشپ، وزٹنگ پروگرامز اور مشترکہ اشاعتوں کو فروغ دینے کی بات کہی۔ ساتھ ہی سمندری آفات کے ردعمل پر مشقیں، ڈرون مخالف حل پر مشترکہ مطالعہ اور محفوظ سمندری معلومات کے تبادلے سے جڑے تحقیقی منصوبوں جیسے ابتدائی تجربات شروع کرنے کی بھی تجویز دی۔
دو روزہ پہلا ہند۔آسیان ڈیفنس تھنک ٹینک فورم اسٹریٹجک بات چیت کو مضبوط بنانے، مشترکہ تجزیے کو فروغ دینے اور دفاع و سلامتی کے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے مقصد سے منعقد کیا جا رہا ہے۔