نئی دہلی، 14 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر فہرست سے باہر کیے گئے 13.3 کروڑ ہندوستانیوں کو گھس پیٹھیا (درانداز) قرار دینے کو بھارتیتا (ہندوستانیت) کی توہین قرار دیا ہے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کو سوشل میڈیا 'ایکس' پر کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود جنتر منتر کو احتجاج کے مقررہ مقام سے ہٹانا احتجاج کرنے کے حق کی چوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ووٹ کی چوری اور اب احتجاج کرنے کے حق کی چوری بی جے پی کی آمریت کا ثبوت ہے۔
اس سے پہلے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے وزیر داخلہ امِت شاہ سے کہا کہ انہیں ایس آئی آر کے تحت پکڑے گئے گھس پیٹھیوں کی تعداد، ووٹر فہرست سے ہٹائے گئے گھس پیٹھیوں کی تعداد اور ملک سے نکالے گئے گھس پیٹھیوں کی تعداد بتانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے 100 کروڑ لوگوں کو ایس آئی آر کے عمل سے گزرنا پڑا ہے اور انہیں اس کے نتائج جاننے کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر کا دفاع کرنے والے وزیر داخلہ بتائیں کہ کتنے گھس پیٹھیوں کا پتہ لگایا گیا، کتنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست سے ہٹائے گئے اور کتنے گھس پیٹھیوں کو ملک سے باہر نکالا گیا۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے پیچھے کے ماسٹر مائنڈ بار بار گھس پیٹھیوں کا مسئلہ اٹھا کر تقریباً 14 کروڑ ہندوستانیوں کو ان کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کے معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو بتانا چاہیے کہ کیا ووٹر فہرست سے ہٹائے گئے 14 کروڑ ہندوستانی گھس پیٹھیے ہیں اور کیا ان کے دورِ اقتدار میں گھس پیٹھیوں کی تعداد میں اتنا بڑا اضافہ ہوا ہے۔