نئی دہلی، 13 اکتوبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر "چوروں کے سردار" اور "کمانڈر ان چیف" جیسے تبصرے کرنے کے معاملے میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف چل رہے جرم ہتک عزت کے معاملے میں نچلی عدالت میں جاری سماعت پر منگل کے روز روک لگا دی۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس اپریش کمار سنگھ کی بنچ نے بامبے ہائی کورٹ کے 8 ستمبر کے اس حکم کو چیلنج کرنے والی مسٹر گاندھی کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، جس میں عدالت نے معاملے کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں اور نچلی عدالت کی اس معاملے پر آگے کی کارروائی پر روک رہے گی۔ اس معاملے میں مسٹر گاندھی کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ ابھشیک منو سنگھوی پیش ہوئے۔
مسٹر گاندھی نے اس معاملے میں مجسٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ سمن کو بامبے ہائی کورٹ میں یہ دلیل دیتے ہوئے چیلنج کیا تھا کہ انہوں نے نہ تو بی جے پی کا نام لیا اور نہ ہی کسی قابلِ شناخت گروپ کو نشانہ بنایا۔ اس وجہ سے پارٹی کارکن مہیش شری شری مال کی دائر کردہ شکایت قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ایک رجسٹرڈ قومی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے ایک قابلِ شناخت ادارہ ہے۔ یواین آئی ایف اے