Jadid Khabar

راہل گاندھی کو لے جا رہی پولیس بس کو کانگریس کارکنان نے پنکچر کر دیا

Thumb

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو دہلی پولیس حراست میں لے کر بذریعہ بس کسی دوسری جگہ کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن تبھی بس کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ کانگریس نے ’ایکس‘ پر کچھ تصویریں شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ راہل گاندھی کو لے جا رہی بس کانگریس کے ’ببر شیروں‘ نے پنکچر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’راہل گاندھی جی کو جس بس میں لے جایا جا رہا تھا، اگرسین کی باؤلی کے پاس کانگریس کے ببر شیروں نے اسے پنکچر کر دیا۔‘‘
راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو پولیس نے حراست میں لے کر جبراً الگ الگ بسوں میں بٹھا دیا ہے۔ دہلی پولیس کے اس عمل سے وہاں موجود ہزاروں کانگریس لیڈران و کارکنان سخت ناراض نظر آئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت درجنوں اراکین پارلیمنٹ کو پولیس نے جنتر منتر سے پہلے ہی حراست میں لے لیا اور جبراً انھیں بسوں میں بٹھا کر چل پڑے۔ ابھی یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ انھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے، یا پھر انھیں کسی خاص مقام پر لے جا کر چھوڑ دیا جائے گا۔ کانگریس نے اس عمل کو جمہوریت کے خلاف قرار دیا ہے۔ پرینکا گاندھی کو جبراً حراست میں لیے جانے کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ آئین کے لیے، ہندوستانی شہریوں کے لیے اور جمہوریت کے لیے یہ جنگ جاری رہے گی۔
پرینکا گاندھی دہلی پولیس کے ذریعہ اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ کیے جا رہے ناروا سلوک سے بہت ناراض نظر آ رہی ہیں۔ وہ سڑک پر لیٹ کر مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر جنتر منتر نہیں جانے دیا گیا تو وہ سڑک پر ہی لیٹ کر مظاہرہ کریں گی، وہ بالکل بھی یہاں سے نہیں ہٹیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو اراکین پارلیمنٹ صرف الیکشن کمشنرز سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ ایسا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ وہ اراکین پارلیمنٹ کو مارتے ہیں۔‘‘ پرینکا نے الزام عائد کیا کہ خاتون پولیس اہلکاروں نے ان کے پورے جسم پر خراشیں ڈال دی ہیں اور انھیں زمین پر پٹخ دیا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں پرینکا گاندھی کی طبیعت ناساز بھی بتائی جا رہی ہے۔