Jadid Khabar

بی جے پی نے ملک کی معیشت کو برباد کر دیا، آج ملک کا ہر شہری پریشان ہے: کانگریس

Thumb

ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر کانگریس نے ایک بار پھر مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کے قومی ترجمان اور سابق رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی نے ملک کی معیشت کو برباد کر دیا ہے۔ آج ملک کا ہر شہری پریشان ہے، خواہ وہ نوجوان ہو، کسان ہو یا چھوٹا کاروباری ہو۔ روزانہ قرض کے بوجھ تلے کسان اور نوجوان خودکشی کر رہے ہیں۔ آج ملک میں ایسی صورتحال اس لیے بنی ہوئی ہے کیونکہ بی جے پی حکومت صرف ’کرونی کیپیٹلزم‘ میں یقین رکھتی ہے۔ آج ملک میں لاکھوں آسامیاں خالی پڑی ہیں، لیکن ان پر بھرتیاں نہیں کی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ویکنسی نکلتی بھی ہے تو اس میں پیپر لیک ہو جاتا ہے اور حکومت کے چٹے بٹے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ ’’1991 میں جب کانگریس کی حکومت بنی اس سے قبل ملک کی معیشت انتہائی بحران میں تھی۔ ملک کا سونا باہر گروی تھا۔ ہماری حکومت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر خزانہ تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایف آئی آئی (فارن انسٹی ٹیوشنل انویسٹر) کو ہندوستانی بازار میں آنے کا راستہ دیا۔ اس سے ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ آنے لگا اور معیشت کو مضبوطی ملی۔ لیکن آج بی جے پی حکومت میں غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں۔ اس بارے میں نریندر مودی کو جواب دینا چاہیے۔‘‘
شکتی سنگھ گوہل نے مزید کہا کہ ’’2004 میں جب ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے اور سونیا گاندھی یو پی اے کی چیئرپرسن بنیں تب انہوں نے متوسط طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا۔ شیئر مارکیٹ میں جو متوسط طبقہ پیسہ لگاتا تھا، جس سے اسے لانگ ٹرم کیپیٹل گین ہوتا تھا، یو پی اے حکومت نے اس پر ٹیکس کو صفر کر دیا تھا۔ اس وقت صرف ایک بار لگنے والا ایس ٹی ٹی (سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس) لاگو کیا گیا تھا۔ لیکن بی جے پی حکومت آئی تو انہوں نے ڈبل ٹیکس لاگو کر دیا۔‘‘ ان کے مطابق اب حالات یہ ہیں کہ آپ شیئر خریدیں تو ایس ٹی ٹی ٹیکس دیں، پھر اسے 6، 10 یا 12 مہینے میں فروخت کرتے ہیں تو آپ کو شارٹ ٹرم کیپیٹل گین (ایس ٹی سی جی) پر 20 فیصد ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ شیئر مارکیٹ میں جس لانگ ٹرم کیپیٹل گین پر کانگریس نے ٹیکس صفر کیا تھا، اسے مودی حکومت نے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت کا فنڈا ہے کہ متوسط طبقہ کسی بھی طرح سے تھوڑا بہت پیسہ کمائے تو اس سے ٹیکس کے ذریعہ پیسے اینٹھ لو اور اپنے صنعت کار دوستوں کو مالا مال کر دو۔‘‘