Jadid Khabar

فیض اللہ گنج سے نیمیش تک پشتا تعمیر کیا جائے گا: یوگی

Thumb

لکھنؤ، 5 اکتوبر (یواین آئی) اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو فیض اللہ گنج سے نیمیش تک فضائی سروے کرکے سیلاب کی صورت حال کا جائزہ لیا اور گومتی ندی کے کنارے پشتا تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے محکمہ آبپاشی کے پرنسپل سکریٹری کو ندی کے کنارے کا سروے کروا کر پشتا تعمیر کرنے کی تجویز تیار کرنے اور جلد کام شروع کرانے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ بخشی کا  تالاب علاقے کے اکڑریا کلا گاؤں پہنچے اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے بات چیت کرکے راحت اور بچاؤ کے کاموں کی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے راحت کا سامان تقسیم کیا اور بچوں کو چاکلیٹ بھی دیں۔ بعد میں انہوں نے صحت کیمپ کا معائنہ کیا اور ڈاکٹروں اور مریضوں سے ادویات اور صحت کی سہولتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
یوگی نے کہا کہ پیلی بھیت، لکھیم پور کھیری، سیتاپور اور نیپال میں ہوئی شدید بارش کے باعث پانچ سے چھ دن بعد گومتی ندی کی سطح آب میں اضافہ ہوا، جس سے بخشی کا تالاب، لکھنؤ شمال، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ پشتے کے باہر آباد گاؤں سے بارش کا پانی نکالنے کا انتظام کیا جائے اور پانی جمع ہونے کی صورت میں پمپنگ سیٹ کے ذریعے پانی ندی میں پہنچایا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی فون کرکے سیلاب کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی اور پشتا تعمیر کرنے کے معاملے پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعمیر کی منظوری دے دی ہے اور رقم جاری کرکے جلد کام شروع کرایا جائے گا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ سیلاب متاثرین کے لیے اسکولوں اور شادی ہالوں میں قیام، گرم کھانے، بچوں کے لیے دودھ، حاملہ خواتین کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک اور مویشیوں کے لیے چارے کا انتظام کیا جائے۔
یوگی نے کہا کہ ہر صحت مرکز پر اینٹی اسنیک وینم اور اینٹی ریبیز انجیکشن دستیاب ہیں۔ ڈوبنے یا آسمانی بجلی گرنے سے جانی نقصان کی صورت میں چار لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے گھروں، مویشیوں اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا سروے کروا کر معاوضہ دینے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے خالی گاؤں میں پولیس گشت کے ساتھ چوکیداروں، ہوم گارڈز اور پی آر ڈی جوانوں کی تعیناتی اور راحت کیمپوں میں روشنی کا انتظام کرنے کو کہا۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ حکومت سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور راحت رسانی کے کام مسلسل جاری رہیں گے۔
یواین آئی۔ ط ا