نئی دہلی، 5 اکتوبر (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی اصلاحات کے اگلے مرحلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں ٹیکس کے نظام کو مزید سادہ بنائیں گی اور ٹیکس کی ذمہ داریوں کا پہلے سے اندازہ لگانا آسان ہو جائے گا۔
جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ 7 اکتوبر کو ہونے جا رہی ہے جس میں اس بالواسطہ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کے اگلے دور پر بات چیت کی امید ہے۔
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی وزیر نرملا سیتارمن کے 'ایکس' کے ایک پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا، "اگلی نسل کا جی ایس ٹی نظام ٹیکسیشن کو مزید سادہ بنائے گا اور اس کے بارے میں اندازہ لگانا آسان ہوگا۔ اس سے تعمیل آسان ہوگی، ریفنڈ کے طریقہ کار میں بہتری آئے گی اور تاجروں کو سرمایہ کاری نیز توسیع کے لیے زیادہ اعتماد ملے گا۔ حکومت ان اصلاحات کو 'وکسِت بھارت' کے ہدف سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔" انہوں نے کہا کہ اصلاحات سے تجارتی اداروں اور خاندانوں کو مدد مل رہی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ یہ اصلاحات معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے، ریونیو کو مضبوط کرنے اور ملک بھر کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کے اگلے مرحلے میں تعمیل کو آسان بنانے اور ریفنڈ کے عمل کو بہتر کرنے پر توجہ دی جائے گی، جس سے تاجروں کو سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے مزید اعتماد ملے گا۔ اس سے ترقی یافتہ ہندستان کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔ رجسٹریشن سے لے کر ریفنڈ تک اس کی تعمیل آسان ہوگی۔
وزیر خزانہ محترمہ سیتارمن نے اپنے پوسٹ میں کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کا اگلا مرحلہ پہلے سے کی گئی تبدیلیوں کو آگے بڑھائے گا اور ٹیکس کے نظام کو ٹیکس دہندگان کے لیے مزید سازگار بنانے پر مرکوز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگلی نسل کے جی ایس ٹی کے دوہرے مقاصد-ٹیکس دہندگان کو راحت اور معیشت کو مزید رفتار-کو پورا کیا جا رہا ہے۔ اگلے مرحلے میں رجسٹریشن، ریٹرن فائل کرنے، ریفنڈ، تنازعات کے حل اور ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) سے جڑی تعمیل کو سادہ بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔
حکومت کی توجہ اب صرف جی ایس ٹی کی شرحوں کو مناسب بنانے سے آگے بڑھ کر ٹیکس انتظامیہ سے جڑے طریقہ کار کو بہتر کرنے پر ہے۔ اس کا مقصد تاجروں اور ٹیکس دہندگان کے لیے تعمیل میں لگنے والے وقت اور لاگت کو کم کرنا نیز ٹیکس کے نظام کو مزید قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ حکومت نے گزشتہ سال جی ایس ٹی نظام میں بڑی تبدیلیاں کی تھیں۔ جی ایس ٹی کونسل کے 56 ویں اجلاس کے فیصلوں کے تحت 22 ستمبر 2025 کو جی ایس ٹی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں نافذ کی گئیں اور زیادہ تر مصنوعات کو 5 فیصد اور 18 فیصد ٹیکس کے تحت لادیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی 28 فیصد کا معاوضہ سیس بھی ختم کر دیا گیا۔
جی ایس ٹی کی شروعات یکم جولائی 2017 کو ہوئی تھی۔ اس کے تحت مرکز اور ریاستوں کے متعدد بالواسطہ ٹیکسوں کو ایک مربوط نظام میں لایا گیا اور ملک میں ایک مشترکہ قومی مارکیٹ تیار کی گئی۔ اس کے بعد سے جی ایس ٹی کی شرحوں، طریقہ کار اور تکنیکی نظام میں کئی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 2017 میں تقریباً 66.5 لاکھ تھی، جو مئی 2026 تک بڑھ کر 1.65 کروڑ ہو گئی۔
جی ایس ٹی میں اصلاحات پر غور کے لیے جی ایس ٹی کونسل کی قانون سے متعلق کمیٹی نے جی ایس ٹی قوانین کے تحت مجرمانہ زمرے میں رکھے گئے افعال کو غیر مجرمانہ بنانے اور نفاذ سے جڑے التزامات میں تبدیلی کی تجاویز پر غور کیا ہے۔ کونسل کے اس آئندہ اجلاس میں اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ اس میں سنٹرل گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (سی جی ایس ٹی) ایکٹ کی دفعہ 69 کے تحت دستیاب گرفتاری کے آزادانہ اختیار کو ہٹانے کا امکان بھی شامل ہے۔
فی الحال دفعہ 69 کے تحت کمشنر کو ایسے شخص کو گرفتار کرنے کی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے، جس کے بارے میں یہ ماننے کی ٹھوس وجہ ہو کہ اس نے سی جی ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 132 کے تحت متعین جرم کیا ہے۔ فرضی انوائس، فرضی طریقے سے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے یا اس کا غلط استعمال کرنے جیسے سنگین معاملات میں اس التزام کا استعمال کیا گیا ہے۔