Jadid Khabar

طب کے شعبہ میں ’آپٹوجینیٹکس‘ کی دریافت کے لیے 3 سائنسدانوں کو ملا نوبل

Thumb

2026 میں طبی شعبہ کا نوبل انعام 3 سائنسدانوں کارل ڈیسروتھ، پیٹر ہیگیمین اور جارج ناگیل کو دیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز روشنی سے کنٹرول ہونے والے آئن چینلز اور ’آپٹوجینیٹکس‘ سے متعلق ان کی دریافت کے لیے دیا گیا ہے۔ فزیالوجی یا طب میں 2026 کا نوبل انعام ’آپٹوجینیٹکس‘ کے لیے دیا گیا ہے، یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے یہ دکھانا ممکن ہو گیا ہے کہ زندہ دماغ کے اندر موجود اعصابی خلیے ہماری یادوں، جذبات اور رویے کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں۔

پیٹر ہیگیمین اور جارج ناگیل نے ایک خلیہ والے الگا میں ’چینل روڈوپسن‘ نامی ایک حیرت انگیز پروٹین دریافت کیا۔ کارل ڈیسروتھ نے اس پروٹین کو اعصابی خلیوں کے لیے روشنی سے کنٹرول ہونے والے ایک سوئچ میں تبدیل کر دیا۔ ان سائنسدانوں نے نیورو سائنس کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔ 1971 میں پیدا ہوئے کارل ڈیسروتھ نے 1998 میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور 2000 میں ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اس وقت ہاورڈ ہیوز میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ’ڈی ایچ چن پروفیسر‘ اور بایو انجینئرنگ، نفسیات اور رویے کے علوم کے پروفیسر ہیں۔
پیٹر ہیگیمین نے 1984 میں جرمنی کے ’میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ فار بایوکیمسٹری‘ سے پی ایچ ڈی کی۔ وہ جرمنی کی ہومبولٹ یونیورسٹی آف برلن میں ’ہرٹی سینئر پروفیسر آف نیوروسائنس‘ ہیں۔ انہیں جس دریافت کے لیے انعام دیا گیا ہے، وہ انہوں نے جرمنی کے ’میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ فار بایوکیمسٹری‘ میں کی تھی۔ جارج ناگیل کی پیدائش 1953 میں ہوئی تھی۔ انہوں نے 1988 میں جرمنی کی فرینکفرٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ وہ اس وقت جرمنی کی یونیورسٹی آف وورزبرگ (جرمنی) کے مالیکیولر پلانٹ فزیالوجی شعبے میں پروفیسر ہیں۔ انہیں جس دریافت کے لیے انعام دیا گیا ہے، وہ انہوں نے جرمنی کے ’میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ فار بایوفزکس‘ میں کی تھی۔