Jadid Khabar

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عرضیاں، سپریم کورٹ میں 5 اکتوبر کو ہوگی سماعت

Thumb

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف دائر عرضیوں پر سپریم کورٹ میں 5 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوگا، جس میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل ہیں۔

عرضیوں میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) سے متعلق بعض فیصلوں، ہدایات اور الیکٹورل رول سے متعلق سافٹ ویئر میں تبدیلیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ بعض فیصلے الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی رضامندی کے بغیر لیے گئے۔
ایک عرضی دہلی کے وکیل شیلندر منی ترپاٹھی نے دائر کی ہے، جس میں ایس آئی آر سے متعلق یکطرفہ طور پر لیے گئے فیصلوں اور سافٹ ویئر میں کی گئی تبدیلیوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی میں الیکشن کمیشن کے متعلقہ ریکارڈ، فائل نوٹنگ اور اجلاسوں کی کارروائی کی تفصیلات عدالت کے سامنے طلب کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے ایس آئی آر کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے جانے کے الزام کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں آزاد عدالتی تحقیقاتی کمیشن یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کی بھی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ای سی آئی نیٹ اور ایرو نیٹ کے ڈیٹا بیس کا فارنسک آڈٹ کرانے اور متعلقہ سرور لاگز، ڈیٹا بیس، مواصلاتی ریکارڈ اور میٹا ڈیٹا محفوظ رکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کانگریس ورکنگ کمیٹی کا سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ، ایس آئی آر فوری روکنے کی قرارداد منظور
عرضی میں الیکشن کمیشن کے فارم 6 میں تبدیلی کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے اصل قانونی فارم 6 بحال کرنے اور ووٹر کے طور پر اندراج کے لیے مقررہ قانونی تقاضوں پر عمل کی ہدایت دینے کی مانگ کی ہے۔ اس کے علاوہ عرضی میں سی ای سی گیانیش کمار، سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ اور الیکشن کمیشن کی آئی ٹی ڈائریکٹر جنرل سیما کھنہ کے خلاف قانونی خلاف ورزیوں پر کارروائی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
ایک الگ عرضی میں گیانیش کمار کو معاملے کی سماعت مکمل ہونے تک چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ اس عرضی میں الیکشن کمیشن کے تین رکنی ادارے کے اجتماعی فیصلوں کے قانونی طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اس دوران ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے فیصلے متفقہ طور پر لیے گئے ہیں اور ارکان کے درمیان اختلافِ رائے کو ادارہ جاتی غوروفکر کا معمول کا حصہ قرار دیا ہے۔ کمیشن نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی وضاحت دی ہے۔
اب 5 اکتوبر کی سماعت میں سپریم کورٹ ان عرضیوں میں اٹھائے گئے سوالات پر ابتدائی طور پر کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس پر توجہ رہے گی۔