نئی دہلی، 23 ستمبر (یو این آئی) الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ آئین کے تحت ملنے والی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری اور وفاداری کے ساتھ نبھانے کے لیے پرعزم ہے۔
الیکشن کمیشن کے اندر دو الیکشن کمشنروں کے عدم اتفاق کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع پر الیکشن کمیشن نے وضاحت دی ہے اور کہا ہے کہ کمیشن کے اندر تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہو رہے ہیں۔ نظریاتی اختلافات کا مطلب ٹکراؤ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ کسی بھی ادارے میں غور و خوض کے دوران مختلف آرا اور تبصرے ہونا عام بات ہے۔ یہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ نہ صرف تینوں کمشنر، بلکہ کمیشن کا ہر اہلکار انتخابی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کمیشن کو اپنی تجاویز دینے کے لیے مکمل طور پر مجاز ہے۔
کمیشن نے بیان میں کہا کہ دس مہینوں کے دوران کی کچھ خاص اندرونی تحریروں/مشاہدات کو اجاگر کرنا، جبکہ بڑی تعداد میں منظوریوں، فیصلوں، ہدایات اور پہل قدمیوں کو نظر انداز کرنا، تصویر کا صرف ایک حصہ ہی دکھاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمیشن نے کئی فیصلے کرنے کے ساتھ ہی ہدایات جاری کی ہیں اور تقریباً 40 نئی پہل قدمیاں شروع کی ہیں اور ملک بھر میں ووٹر فہرست کی نظر ثانی کے انعقاد سمیت کئی انتخابی اصلاحات کیے ہیں۔ یہ تمام فیصلے گزشتہ ایک سال میں پورے کمیشن کے متفقہ فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔
کمیشن کے مطابق ای سی آئی نیٹ جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سخت ڈیٹا سکیورٹی پروٹوکول کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان میں غیر مجاز چھیڑ چھاڑ یا ڈیٹا میں تبدیلی روکنے کے لیے آئی ٹی سکیورٹی جانچ اور آڈٹ کنٹرول نافذ ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ووٹر فہرست میں نام شامل کرنے یا ہٹانے کا کام الیکٹورل رجسٹریشن افسران اور ڈسٹرکٹ الیکشن افسران جیسے آئینی/قانونی حکام قانون کے تحت اپنے مقررہ اختیارات کے مطابق کرتے ہیں۔ یعنی کمیشن کے مطابق یہ اختیارات طے شدہ قانونی عمل کے تحت استعمال کیے جاتے ہیں۔
کمیشن کے مطابق کسی فیصلے کو حتمی شکل دینے سے پہلے اراکین کے درمیان بحث ہوتی ہے اور اس دوران مختلف آرا، تجاویز یا انتظامی سوالات اٹھنا عام طریقہ کار ہے۔ ان کا مقصد انتخابی نظام کو مضبوط کرنا اور ووٹروں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔