واشنگٹن/کیف: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ تاہم، یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس پیش رفت کی حمایت کو روس کی جانب سے امریکی تجویز پر عملی اقدامات سے مشروط قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ’’یوکرین نے روسی توانائی ٹھکانوں پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے اور روس نے بھی ایسا ہی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘ تاہم، امریکی صدر نے اس مبینہ اتفاق رائے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس انتظام میں کن توانائی تنصیبات کو شامل کیا گیا ہے، یہ کب سے نافذ ہوگا، کتنے عرصے تک برقرار رہے گا یا اس کی نگرانی کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اس مبینہ اتفاق رائے کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ کس سطح پر بات چیت ہوئی اور اس میں امریکہ کا کردار کیا رہا۔
ٹرمپ کے دعوے کے ایک روز بعد یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ نے ایک مضبوط تجویز پیش کی ہے کہ دونوں فریق اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر روس اس تجویز پر عمل کرتا ہے تو یوکرین بھی جواباً حملے روک کر کشیدگی کم کرنے کے عمل کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ اگر روس یوکرین کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کرتا ہے اور یوکرین بھی جوابی کارروائیاں روکتا ہے تو یہ کشیدگی کم کرنے کی سمت پہلا قدم بن سکتا ہے۔
انہوں نے تاہم روس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ روس واقعی جنگ ختم کرنے کی مخلصانہ خواہش رکھتا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق اگر امریکہ یہ یقینی بنا سکے کہ روس جنگ ختم کرنے کے لیے حقیقی طور پر تیار ہے اور طویل مدت تک اس فیصلے پر قائم رہنا چاہتا ہے تو یوکرین بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے اقدامات کرے گا۔
زیلنسکی نے کہا کہ توانائی کا نظام، غذائی سپلائی کے راستے اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچہ جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کا حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایک مضبوط اور منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا جو محض عارضی نہ ہو بلکہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکے۔
ٹرمپ نے اپنے دیگر بیانات میں روس-یوکرین جنگ کو دنیا میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی بنیادی وجہ ایران نہیں بلکہ روس-یوکرین جنگ ہے۔ انہوں نے امریکہ میں مہنگائی کے لیے سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔
روس کی جانب سے ٹرمپ کے دعوے یا زیلنسکی کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ٹرمپ کے بیان میں بھی وسیع تر جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے تک بات محدود رہی۔ فروری 2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے آغاز کے بعد سے یوکرین کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بارہا حملوں کا نشانہ بنا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی، پانی، صحت اور دیگر بنیادی شہری خدمات متاثر ہوئی ہیں۔