نئی دہلی، 14 ستمبر (یو این آئی) مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ہندی کسی زبان کی حریف نہیں، بلکہ ہندوستانی زبانوں کے درمیان دلی بات چیت اور قومی اتحاد کی اہم کڑی ہے۔
امت شاہ نے ہندی ڈے پر اپنے پیغام میں پیر کے روز کہا کہ ہندی کی ترقی تبھی با معنیٰ ہے، جب وہ تمام ہندوستانی زبانوں کے احترام، تحفظ اور فروغ کے ساتھ آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا لسانی تنوع اس کی کمزوری نہیں، بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہر زبان اپنے ساتھ تاریخ، لوک روایت اور فلسفۂ حیات لے کر چلتی ہے۔ ہندی نے اسی تنوع کے درمیان بات چیت، رابطے اور ہم آہنگی کی زبان کے طور پر ملک کے مختلف طبقات اور برادریوں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ تحریکِ آزادی کے دوران سوراج، سودیشی اور سوبھاشا کے افکار نے قومی شعور کو نئی توانائی دی۔ آزادی کے بعد بھی ہندوستانی زبانیں قومی تعمیر، انتظامیہ اور ترقی کو عوام الناس تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ آئین ساز اسمبلی نے 14 ستمبر 1949ء کو ہندی کو ہندوستانی یونین کی سرکاری زبان کے طور پر قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی مادری زبان کو تعلیم کے مرکز میں رکھتی ہے۔ اب انجینئرنگ اور میڈیکل کی پڑھائی ہندوستانی زبانوں میں ہو رہی ہے اور مسابقتی امتحانات بھی متعدد ہندوستانی زبانوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔
مسٹر امت شاہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں ہندی سمیت تمام ہندوستانی زبانیں تکنیکی ترقی کے سنہرے دور کا مشاہدہ کر رہی ہیں۔ راج بھاشا ڈیپارٹمنٹ کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پر مبنی 'بھارتی' ٹول ہندوستانی زبانوں کے درمیان بات چیت کو آسان بنا رہا ہے۔ وہیں، 8.27 لاکھ سے زائد اندراجات پر مشتمل 'ہندی شبد سندھو' ڈیجیٹل ڈکشنری معلومات کے تبادلے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے دنیا کی زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنے کے ساتھ اپنی زبان نہ چھوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے والدین سے بچوں کے ساتھ مادری زبان میں بات کرنے کا درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ زبان ہمیں اپنی ماں، مٹی، تاریخ اور ثقافت سے جوڑتی ہے۔
وزیرِ داخلہ نے تمام لوگوں سے یہ عزم کرنے کی اپیل کی کہ ہندی اور تمام ہندوستانی زبانوں کو 2047ء تک وکست بھارت بنانے کے سفر کا ایک بااختیار ذریعہ بنایا جائے۔