ڈبلن، 12 ستمبر (یواین آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آئرلینڈ کا اتحاد ہوتا دیکھنا پسند کریں گے اور ان کا خیال ہے کہ یہ ''آخرکار ہونے والا ہے۔''
آئرلینڈ کے دورے کے دوران آئرش اتحاد کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ''کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے''، تاہم وہ ''اسے متحد ہوتا دیکھنا پسند کریں گے۔'' انہوں نے کہا کہ ان کے دونوں جانب دوست ہیں اور اگر آئرلینڈ کا اتحاد عمل میں آتا ہے تو یہ ''سب کے لیے ایک بڑی کامیابی'' ہوگی۔ انہوں نے اسے ''بہت اچھی بات'' قرار دیا۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ''برطانیہ کے پاس اس بارے میں کہنے کے لیے کچھ ہوگا''، لیکن سوال کیا کہ ''یہ برا کیسے ہو سکتا ہے؟''
آئرلینڈ میں ان کے دورے کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کوئی مظاہرہ نہیں دیکھا اور مذاقاً کہا، ''یہ ایک دوستانہ مظاہرہ ہے۔'' انہوں نے کہا کہ امریکہ اور آئرلینڈ کے درمیان ''بہت اچھے تعلقات'' ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ''یہ آئرلینڈ کے لیے بہت فائدہ مند تعلقات ہیں، اگرچہ سچ کہوں تو ہمارے لیے یہ اتنے فائدہ مند نہیں ہیں۔''
غزہ کے حوالے سے امریکہ کے کردار پر سوال کے جواب میں مسٹر ٹرمپ سے ان لوگوں کے الزامات کے بارے میں پوچھا گیا جو کہتے ہیں کہ امریکہ غزہ میں نسل کشی اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے علاقوں پر غیر قانونی قبضے کو فروغ دے رہا ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے جواب دیا، ''ہم نے آگ بجھائی ہے۔'' انہوں نے کہا کہ امریکہ نے 7 اکتوبر کے حملے میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو اسرائیل واپس پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے ''ایک طرح کا امن قائم کرنے میں مدد کی ہے۔''
آئرلینڈ کے وزیر اعظم مارٹن نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسٹر ٹرمپ کے ساتھ غزہ میں مسلسل انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس پر مسٹر ٹرمپ نے کہا، ''ہم یہ یقینی طور پر کروا دیں گے۔''
ایران جنگ کے خاتمے کے سوال پر انہوں نے کہا، ''میرا خیال ہے کہ بہت جلد... ممکنہ طور پر وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد۔ ایسا ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔''
مسٹر ٹرمپ نے آئرلینڈ کے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ''شروع سے'' دوست رہے ہیں اور ان کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے آئرش اوپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے مذاق بھی کیا۔ مسٹر ٹرمپ آج اور کل اپنے ایک گولف کورس میں منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گے۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت سمیت متعدد امور پر بات چیت ہوئی ہے اور امریکہ کے آئرلینڈ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا، ''ہمارے تعلقات کبھی اتنے اچھے نہیں رہے جتنے اب ہیں۔''
مسٹر ٹرمپ ہفتے کی صبح آئرلینڈ پہنچے۔ وہ اپنے ایک گولف کورس میں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گے۔ سرخ ٹائی پہنے مسٹر ٹرمپ کا ہوائی اڈے پر آئرلینڈ کے وزیر خزانہ سائمن ہیرس، وزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی، آئرلینڈ میں امریکی سفیر ایڈورڈ والش اور امریکہ میں آئرلینڈ کی سفیر جیرالڈین برن ناسان سمیت کئی عہدیداروں نے استقبال کیا۔
اس کے بعد مسٹر ٹرمپ کے بیٹے ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا بھی طیارے سے اترے اور زمین پر موجود عہدیداروں سے ملاقات کی۔ آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی سے خیرسگالی ملاقات کے بعد 'دی بیسٹ' میں واپس جاتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے چند سوالات کے مختصر جوابات دیے۔ ان میں باب المندب آبنائے سے ہونے والی آمدورفت سے متعلق سوال بھی شامل تھا۔