نئی دہلی، 12 ستمبر (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی کے دعوؤں کی گجرات میں ہی پول کھل گئی ہے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دہائیوں طویل حکومت کے باوجود پانی کے 10 میں سے نو نمونے پینے کے قابل نہیں ہیں اور 14 لاکھ گھروں کو آج بھی نل سے پانی کا انتظار ہے۔
ملکارجن کھرگے نے کہا کہ جب نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، تب 2004ء میں 'سوجلام-سوفلام' اسکیم کی زور و شور سے تشہیر کی گئی تھی اور وزیراعظم بننے کے بعد وہی جملے بازی 'جل جیون مشن' تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ کیگ نے 2022ء میں گجرات حکومت کے سو فیصد نل کنکشن کے دعوے کی پول کھول دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ احمد آباد ضلع کے دھولکا میں گزشتہ ہفتے آلودہ پانی پینے سے کینسر کے باعث 54 افراد کی موت کی خبر آئی ہے۔ سوراشٹر میں راجکوٹ اور جام نگر جیسے علاقے آج بھی پینے کے پانی کے لیے ترس رہے ہیں، جبکہ کچھ-سوراشٹر کے کسان خشک سالی سے جوجھ رہے ہیں۔
کانگریس صدر نے کہا کہ گجرات کے عوام کو 2047ء کے 'وکسِت بھارت ' کا خواب دکھایا جا رہا ہے لیکن 28 سال کی بی جے پی حکومت نے صرف جھوٹا پروپیگنڈا اور رنگین تصاویر دکھا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی راج میں نہ 'سوجلام' یعنی صاف پانی ہے اور نہ 'سوفلام' یعنی بھرپور پھل اور زرخیز فصلیں ہیں ۔
یواین آئی ایف اے