Jadid Khabar

’راہل گاندھی انصاف ملنے تک نشو آزاد کے ساتھ کھڑے ہیں‘، کانگریس نے سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کا کیا مطالبہ

Thumb

’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے اندر سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری ہو اور اسے جیل میں ڈالا جائے۔ کانگریس اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی انصاف ملنے تک پوری طاقت سے نشو آزاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ یہ بیان مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اس پریس کانفرنس میں الکا لامبا نے کئی خواتین کا نام سامنے رکھ کر ان پر ہو رہے ظلم کو بیان کیا اور مرکز کی مودی حکومت کو ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔

میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ ’’میں آج آپ کے سامنے ملک کی کچھ بیٹیوں کا ذکر کروں گی... نشو آزاد، شاہین خان و نفیسہ خان، آکرتی چودھری، روچیکا سنگھ۔‘‘ وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’نشو آزاد اسکول میں پڑھتی ہیں اور دلت سماج کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔ نشو نے جنتر منتر کی تحریک میں حصہ لیا اور جمہوری طریقوں سے اپنی بات رکھی، جہاں بی جے پی رائٹ وِنگ کے پُرتشدد لوگوں نے ان کے والد سے مار پیٹ کی۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’مار پیٹ کرنے والے کا نام ہے سوتنتر بھاردواج، جس کا بڑے بڑے چینلز انٹرویو کر رہے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں سوتنتر بھاردواج بڑی ہی بے شرمی سے اپنے ظلم کے قصے سنا رہا ہے۔ دلت سماج کے لیے ہتک آمیز الفاظ کا استعمال کر رہا ہے، لیکن اس کے خلاف کسی دفعہ میں کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔‘‘
سوتنتر بھاردواج کے عمل پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’آپ سوتنتر بھاردواج کی ویڈیو سنیے اور سوچیے، کھلے اسٹیج سے اتنا سب کہنے کے بعد بھی دہلی پولیس نے صرف ایک معمولی ایف آئی آر درج کی، لیکن اسے گرفتار نہیں کیا۔ جبکہ اس معاملہ میں قتل کی کوشش کی دفعہ لگنی چاہیے تھی، لیکن یہ دفعہ نہیں لگائی گئی۔‘‘ کانگریس کا کہنا ہے کہ سوتنتر بھاردواج نے اپنی ویڈیو میں یہ بھی بتایا ہے کہ اس کا کن بڑے لیڈران سے رابطہ ہے اور اسے کن لوگوں کا تحفظ حاصل ہے۔ اس نے اپنی ویڈیو مین دہلی کے وزیر کپل مشرا اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان تک کا ذکر کیا ہے۔ سوتنتر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی نشو آزاد نے حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سے انصاف دلانے کا مطالبہ کیا۔
شاہین خان اور نفیسہ خان کا ذکر کرتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ ’’خاتون صحافی شاہین اور نفیسہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ بے حد شرمناک ہے۔ وہ وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال پوچھنا چاہتی تھیں۔ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ 15 سال کی بچی تنوی کو علاج کیوں نہیں ملا جو دہلی ایمس میں اس کی موت ہوئی؟ وزیر داخلہ ایمس جانے کی جگہ پرائیویٹ اسپتال کے افتتاح میں کیوں مصروف تھے؟ کچھ دن قبل ایک چلتی بس میں نابالغ