سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے خلاف مسلم فریق کی عرضی پر سپریم کورٹ میں منگل (یکم ستمبر) کو ہونی والی سماعت ملتوی ہو گئی۔ اب اس معاملے میں آئندہ سماعت 8 ستمبر کو ہوگی۔ یہ معاملہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے کورٹ کمشنر کے ذریعہ سروے سے متعلق ہے۔ نچلی عدالت نے شاہی جامع مسجد کا کورٹ کمشنر سروے کرانے کا حکم دیا تھا، جسے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اسی فیصلے کو مسلم فریق نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
مسلم فریق کا کہنا ہے کہ سروے کا حکم دینا نچلی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران ہندو فریق نے اس معاملے کو ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ‘ (عبادت گاہوں کے قانون) سے جوڑے جانے کی مخالفت کی تھی۔ ہندو فریق نے دلیل دی تھی کہ یہ مسجد پہلے ہی ایک محفوظ یادگار ہے، اس لیے یہاں ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ‘ لاگو نہیں ہوتا۔
اس سے قبل 28 جولائی کو اس تنازعہ پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تھی۔ اس دوران مسلم فریق نے اپنی دلیلیں عدالت کے سامنے رکھی تھیں۔ حالانکہ سماعت پوری نہیں ہو سکی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت کے لیے 4 اگست کی تاریخ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 4 اگست کو ہندو فریق کی جانب سے اپنی دلیلیں پیش کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کو لے کر جاری یہ تنازعہ گزشتہ کچھ عرصے سے عدالتی کارروائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیے جانے کے بعد اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کی سماعت پر مرکوز ہیں۔ 8 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت فریقین کی دلیلوں پر کیا موقف اختیار کرتی ہے، اس پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔